فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کا محاصرہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر مورچہ بند عبدالرشید غازی اور ان کے مسلح ساتھی ہتھیار ڈالنے پر تیار نہیں ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے سکیورٹی فورسز کو لال مسجد کے معاملے پر صبر سے کام لیتے ہوئے والدین کو اپنے بچے نکالنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت دینے کی ہدایت دی ہے۔ ایک سرکاری بیان ک مطابق یہ حکم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں لال مسجد کے اردگرد سکیورٹی فورسز اور مسجد کے اندر مورچہ بند ہتھیار بندوں کے درمیان جمعہ کی شام فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد چار روز سے جاری آپریشن میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اکیس ہوگئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رشید غازی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے ’شہید‘ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل ان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ انہوں نے حکومت کو ہتھیار ڈالنے کی مشروط پیشکش کی ہے۔ تاہم وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید چیمہ نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ رشید غازی اور ان کے ساتھیوں کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے ہونگے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رشید غازی عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ لال مسجد میں موجود بعض طلبا و طالبات کے والدین بھی الزام لگا رہے ہیں کہ ان کے بچوں کو باہر آنے نہیں دیا جا رہا۔ یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے چھ سو طلبا اور تین سو طالبات خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر چکے ہیں۔ باہر آنے والے بعض نوجوانوں نے حکومتی اداروں کو بتایا ہے کہ لال مسجد کے اندر مورچہ بند مسلح افراد طلبا و طالبات کو باہر نہیں آنے دے رہے اور لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں۔ جمعہ کی صبح چودہ افراد جن میں تین لڑکیاں بھی شامل ہیں کسی طرح سکیورٹی فورسز تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان میں سے چند کے کپڑوں پر خون بھی دیکھا گیا ہے تاہم وہ بظاہر زخمی دکھائی نہیں دیتے تھے۔ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات کے پریشان و بےبس والدین باہر کرب سے گزر رہے ہیں۔ ان میں چند نے اپنے خطرے پر مسجد تک اپنے بچوں کو لینے کے لیے جانے کی کوشش کی تو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ باہر آنے والے چند افراد نے مسجد میں غیرملکی افراد کی موجودگی کی بھی بات کی ہے تاہم اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق حکومت نے جمعہ کو اسلام آباد کے علاقے جی سکس میں نافذ کرفیو تین گھنٹے کے لیے دن ساڑھے بارہ بجے سے لیکر دوپہر ساڑھے تین بجے تک اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ جی سکس وفاقی دارالحکومت کا وہ علاقہ ہے جہاں لال مسجد اور جامعہ حفصہ واقع ہیں۔ لال مسجد کے ہتھیار بندوں کے خلاف جاری آپریشن اور کرفیو کی وجہ سے جی سکس کے رہائشی مشکلات کا شکار ہیں اور بہت سے خاندان نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ لال مسجد کے خطیب اور غازی عبدالرشید کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کو بدھ کی رات اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ برقعہ پہنے مسجد سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||