لال مسجد: ایک کمانڈو ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب لال مسجد کے اطراف میں جاری فوجی آپریشن میں کمانڈوز گروپ کے لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس واقعے میں سپیشل سروسز گروپ کے ایک اور افسر بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل وحید ارشد کا کہنا ہے کہ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام لال مسجد کے اندر موجود شدت پسندوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام کی نمازِ جنازہ اتوار کو راولپنڈی میں ادا کی گئی جس میں صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی شرکت کی۔ ان کی میت اب لاہور پہنچا دی گئی ہے جہاں ان کی تدفین کی جائے گی۔ لال مسجد میں محصور مولانا عبدلرشید غازی اور ان کے مسلح ساتھیوں کے خلاف جاری آپریشن میں ہارون اسلام اب تک ہلاک ہونے والے سیکیورٹی دستوں کے سب سے اعلٰی عہدیدار ہیں۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات بھی لال مسجد کے علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جبکہ زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی آتی رہیں۔ فوجی ذرائع کے مطابق ان دھماکوں کا مقصد جامعہ حفصہ کی بیرونی دیواروں کو منہدم کرنا تھا تاکہ وہاں موجود عورتیں اور بچے باہر نکل سکیں۔
سنیچر کو جی سکس سیکٹر سے کافی دور واقع ایف سکس سیکٹر میں نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے ایک عام شہری زخمی ہو گیا۔خلیل خان نامی اس شخص کو پولی کلینک ہسپتال لایا گیا ہے جہاں اس کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ رات کا کھانا کھا رہا تھا کہ کھڑکی سے آنے والی ایک گولی اس کی ٹانگ میں لگی۔ جی سکس سیکٹر جہاں کہ لال مسجد واقع ہے وہاں تو کئی عام شہری گولیوں سے زخمی ہوچکے ہیں تاہم ایف سکس سیکٹر میں پہلا واقع ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ لال مسجد والے ہتھیار ڈال دیں ورنہ مارے جائیں گے۔ سنیچر کو بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے پر سنی شوران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ حکومت زیادہ طاقتور ہے اور لال مسجد کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، لیکن انہیں مسجد میں موجود بے گناہ عورتوں اور بچوں کا خیال آتا ہے کہ کہیں نقصان نہ پہنچ جائے۔ سنیچر کو ہی ارکان پارلیمان اور علماء پر مشتمل ایک پانچ رکنی وفد نے لال مسجد میں مورچہ بند عبدالرشید غازی اور ان کے مسلح ساتھیوں سے ملاقات کی کوشش بھی کی تھی تاکہ انہیں قائل کیا جاسکے کہ وہ مسجد میں ’محبوس‘ بچوں کو باہر آنے دیں لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ وفد میں شامل متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی سمیعہ راحیل قاضی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں لال مسجد میں جانے ہی نہیں دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر آپریشن بند کر دے جبکہ لال مسجد انتظامیہ کو بھی بچوں کی حوالگی کے مسئلے پر ضد چھوڑ دینی چاہیے۔ ادھر عبدالرشید غازی نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد حکومت کے بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے اور تیس طالبات کو تو انہوں نے جامعہ حفصہ کے اندر اجتماعی قبر میں دفنایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب صرف ایک طالبعلم کی لاش تدفین کی منتظر ہے، جسے پوسٹ مارٹم کرانے کی غرض سے ملاقات کے لیے آنے والے علماء اور ارکان پارلیمان کے وفد کے حوالے کیا جائے گا۔ اس حکومتی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ وہ خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، عبدالرشید غازی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مذہبی رہنماؤں سے مسجد میں ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کے مذہبی شدت پسندوں کے خـلاف منگل کو شروع کیے گئے آپریشن میں سکیورٹی فورسز اور ہتھیار بندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں اب تک اکیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ حکومت لال مسجد میں مورچہ بند ہتھیار بندوں کو غیر مشروط طور ہتھیار ڈال کرگرفتاریاں دینے کا کہہ رہی ہے جبکہ عبدالرشید غازی کا کہنا ہے کہ ہتھیار تو حوالے کیے جا سکتے ہیں لیکن وہ اور ان کے ساتھی خود کو حکام کے حوالے نہیں کرینگے۔ ان کا اصرار ہے کہ انہیں باہر نکلنے کا محفوظ راستہ دیا جائے۔ آپریشن کے آغاز سے لیکر اب تک بارہ سو کے لگ بھگ طلبا و طالبات لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ ابھی بھی خاصی تعداد میں لوگ لال مسجد میں موجود ہیں۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ سےنکلنے والےطلباء کی برہمی06 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||