اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | ’پہلی دفاعی لائن میں طالبعلم جبکہ دوسری دفاعی لائن میں طالبات ہیں‘ |
لال مسجد کے نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی نے دعوٰی کیا ہے کہ حکومتی آپریشن میں اب تک تیس طالبات ہلاک ہوچکی ہیں جنہیں جامعہ حفصہ کے اندر اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ٹیلیفون پر خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اب احاطے سے کوئی تعفن نہیں اٹھ رہا اور صرف ایک طالبعلم کی لاش موجود ہے جو وہ ملاقات کے لیے آنے والے علماء اور پارلیمینٹیرینز کے وفد کے حوالے کر دیں گے تاکہ اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب بھی ان کی معیت میں اٹھارہ سو طلباء و طالبات موجود ہیں جو نہ صرف ان کے ساتھ جینے اور مرنے کا عہد کر چکے ہیں بلکہ انہوں نے وصیتیں بھی لکھ دی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے مسجد اور مدرسے کے احاطے میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس پر بات کرنا نہیں چاہتے۔ مولانا عبدالرشید غازی نے طالبات کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے حکومتی دعوے کو رد کیا اور کہا کہ ان کی پہلی دفاعی لائن میں طالبعلم جبکہ دوسری دفاعی لائن میں طالبات ہیں۔ انہوں نے حکومت کے سامنے نہ جھکنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ مقابلہ کرتے ہوئے مرنے کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے آپریشن کر کے انہیں ہلاک کیا تو اسلام آباد بغداد بن جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبا کے مدرسے جامعہ فریدیہ پر پولیس نے قبضہ کرلیا ہے اور ظلم کی انتہا کردی گئی ہے۔ اس بارے میں ایس ایس پی اسلام آباد ظفر اقبال نے تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے سنیچر کو نمازِ فجر کے وقت جامعہ فریدیہ کا محاصرہ کیا ہے جو تاحال برقرار ہے۔ ان کے مطابق مدرسے کے اندر پچاس کے قریب طلبا اور اساتذہ موجود ہیں۔ |