BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 July, 2007, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدرسہ سےنکلنے والےطلباء کی برہمی

گرفتار ہونے والے طالب علم
جمعہ کو باہر آنے والوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا
لال مسجد اور اس سے متصل جامعہ حفصہ میں محصور طالبات کا رضاکارانہ طور پر باہر آنے کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری ہے۔ جمعہ کو بعد دوپہر تک انتظامیہ کے مطابق پانچ طالبات نے خود کو قانون نافذ کرنے والوں کے حوالے کر دیا ہے۔

تاہم گزشتہ دو روز کے برعکس ان طالبات کو صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پہلے باہر آنے والوں کی طرح ان طالبات کو اپنے والدین کے ہمراہ جانے کی اجازت ہے یا نہیں۔ البتہ جمعہ کی صبح جن تین طالب علموں نے خود کو حوالے کیا انہیں پہلے کے برعکس مدرسے سے باہر آنے پر قمیضیں اتارنے کی ہدایت کی گئی۔ ان کے ہاتھ پیچھے باندھ کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

مدرسے کے اندر اب کتنی طالبات رہ گئی ہیں اور وہ کس حال میں ہیں اس بارے میں بھی زیادہ تفصیل دستیاب نہیں تاہم لال مسجد میں محصور نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ میں اب بھی اٹھارہ سو طلبا اور طالبات موجود ہیں۔

بدھ سے اب تک لال مسجد اور اس سے متصل جامعہ حفصہ کا سکیورٹی فورسز کی جانب سے محاصرہ کئے جانے کے بعد سے سینکڑوں کی تعداد میں طالبات رضاکارانہ طور پر باہر آچکی ہیں۔ جامعۂ حفصہ کے علاوہ رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو سکیورٹی حکام کے حوالے کرنے والوں میں مرد طلبا کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جو محاصرہ شروع ہونے سے ایک روز قبل لال مسجد کے زیر انتظٌام ایک اور مدرسے جامعہ فریدیہ سے لال مسجد پہنچے تھے۔

لال مسجد کے قریب فوجی تعینات
سکیورٹی حکام کے سپرد ہونے والے ان طلبا و طالبات کی درست تعداد آرمی ذرائع سے معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ حکام کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ طلبا وطالبات ایک سے زائد مقامات کو سرنڈر پوائنٹ کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور مختلف ایجنسیاں ان کی رجسٹریشن کررہی ہیں۔

مدرسے سے باہر آنے والے طلباء و طالبات میں دس سال سے بیس سال کے بچے اور نوجوان شامل تھے۔ گولیوں اور دھماکوں کی گھن گرج میں گزرتے وقت والے طلبا وطالبات خاصے خوفزدہ دکھائی دیے۔ بدھ کو باہر آنے والی طالبات فوج کی بکتر بند گاڑیوں، مسلح نوجوانوں اور متجسس صحافیوں کو اپنی جانب لپکتے دیکھ کر پریشانی کا شکار ہوتی رہیں۔ کچھ نےصحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اکثر نے بات تو کی لیکن اپنا نام اور عمر بتانے سے صاف انکار کردیا۔

مدرسے کے اندر
 بدھ کو سرنڈر مرکز کے باہر قطار میں کھڑی ایک طالبہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے کے اندر بجلی نہیں ہے تاہم پانی وافر موجود ہے۔ کیونکہ مدرسے میں زمین سے موٹر کے ذریعے پانی نکالنے کا انتظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری رات فائرنگ ہونے کے باعث وہ ایک لمحے کو بھی نہیں سو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا لیکن خوف کے باعث بیشتر طالبات نے کھانا بھی نہیں کھایا۔
بدھ کی صبح محاصرے کے چند گھنٹے بعد چند نو عمر طالبات کے ساتھ آبپارہ چوک میں نمودار ہونے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ والدین کے فون پر اصرار کے بعد مدرسے سے باہر آئی ہیں جبکہ وہ ذاتی طور پر اندر رہنے کو ترجیح دیتیں۔ ان کی والدہ سخت بیمار ہیں لہذا وہ اپنے گھر کو جارہی ہیں۔ ان کے ساتھ باہر آنے والی ایک اور نو عمر طالبہ نے ہچکچاہٹ کے بعد اپنا نام مہناز بتاتے ہوئے کہا کہ رات سے مدرسے میں بہت خراب حالات ہیں اور وہاں مزید رہنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا۔ اس لئے وہ بھی اپنے گھر کو جارہی ہیں۔ چھ طالبات کے اس گروہ کی دیگر طالبات نے صحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

بدھ کو سرینڈر مرکز کے باہر قطار میں کھڑی ایک طالبہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے کے اندر بجلی نہیں ہے تاہم پانی وافر موجود ہے۔ کیونکہ مدرسے میں زمین سے موٹر کے ذریعے پانی نکالنے کا انتظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری رات فائرنگ ہونے کے باعث وہ ایک لمحے کو بھی نہیں سو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ لیکن خوف کے باعث بیشتر طالبات کے کھانا بھی نہیں کھایا۔

اپنے والدین کے ہمراہ سرکاری ویگن میں بیٹھی ایک اور طالبہ نے کہا کہ حکومت نے جامعہ حفصہ کی طالبات کے ساتھ بہت زیادتی کی۔ انہوں نے کہا کہ طالبات تو صرف احتجاج کر رہی تھیں اور طالبات کے احتجاج کا جواب یوں دینا کہاں کی شرافت ہے۔

کم عمر طالبہ امبر ضمیر نے خاصے جذباتی انداز میں کہا کہ اسلامی ملک میں ایک مدرسے پر فوجی کارروائی بدترین ظلم ہے اور جنرل مشرف کو اسکا کا جواب دینا ہو گا۔ ایک اور طالبہ نے کہا کہ وہ قیامت کے روز جنرل مشرف کا گریبان پکڑیں گی اور اپنے ساتھی طلباء اور طالبات کے قتل کا حساب ان سے مانگیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد