مدرسہ سےنکلنے والےطلباء کی برہمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد اور اس سے متصل جامعہ حفصہ میں محصور طالبات کا رضاکارانہ طور پر باہر آنے کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری ہے۔ جمعہ کو بعد دوپہر تک انتظامیہ کے مطابق پانچ طالبات نے خود کو قانون نافذ کرنے والوں کے حوالے کر دیا ہے۔ تاہم گزشتہ دو روز کے برعکس ان طالبات کو صحافیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ پہلے باہر آنے والوں کی طرح ان طالبات کو اپنے والدین کے ہمراہ جانے کی اجازت ہے یا نہیں۔ البتہ جمعہ کی صبح جن تین طالب علموں نے خود کو حوالے کیا انہیں پہلے کے برعکس مدرسے سے باہر آنے پر قمیضیں اتارنے کی ہدایت کی گئی۔ ان کے ہاتھ پیچھے باندھ کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ مدرسے کے اندر اب کتنی طالبات رہ گئی ہیں اور وہ کس حال میں ہیں اس بارے میں بھی زیادہ تفصیل دستیاب نہیں تاہم لال مسجد میں محصور نائب خطیب مولانا عبدالرشید غازی کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ میں اب بھی اٹھارہ سو طلبا اور طالبات موجود ہیں۔ بدھ سے اب تک لال مسجد اور اس سے متصل جامعہ حفصہ کا سکیورٹی فورسز کی جانب سے محاصرہ کئے جانے کے بعد سے سینکڑوں کی تعداد میں طالبات رضاکارانہ طور پر باہر آچکی ہیں۔ جامعۂ حفصہ کے علاوہ رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو سکیورٹی حکام کے حوالے کرنے والوں میں مرد طلبا کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جو محاصرہ شروع ہونے سے ایک روز قبل لال مسجد کے زیر انتظٌام ایک اور مدرسے جامعہ فریدیہ سے لال مسجد پہنچے تھے۔
مدرسے سے باہر آنے والے طلباء و طالبات میں دس سال سے بیس سال کے بچے اور نوجوان شامل تھے۔ گولیوں اور دھماکوں کی گھن گرج میں گزرتے وقت والے طلبا وطالبات خاصے خوفزدہ دکھائی دیے۔ بدھ کو باہر آنے والی طالبات فوج کی بکتر بند گاڑیوں، مسلح نوجوانوں اور متجسس صحافیوں کو اپنی جانب لپکتے دیکھ کر پریشانی کا شکار ہوتی رہیں۔ کچھ نےصحافیوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا اکثر نے بات تو کی لیکن اپنا نام اور عمر بتانے سے صاف انکار کردیا۔
بدھ کو سرینڈر مرکز کے باہر قطار میں کھڑی ایک طالبہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مدرسے کے اندر بجلی نہیں ہے تاہم پانی وافر موجود ہے۔ کیونکہ مدرسے میں زمین سے موٹر کے ذریعے پانی نکالنے کا انتظام موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری رات فائرنگ ہونے کے باعث وہ ایک لمحے کو بھی نہیں سو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ لیکن خوف کے باعث بیشتر طالبات کے کھانا بھی نہیں کھایا۔ اپنے والدین کے ہمراہ سرکاری ویگن میں بیٹھی ایک اور طالبہ نے کہا کہ حکومت نے جامعہ حفصہ کی طالبات کے ساتھ بہت زیادتی کی۔ انہوں نے کہا کہ طالبات تو صرف احتجاج کر رہی تھیں اور طالبات کے احتجاج کا جواب یوں دینا کہاں کی شرافت ہے۔ کم عمر طالبہ امبر ضمیر نے خاصے جذباتی انداز میں کہا کہ اسلامی ملک میں ایک مدرسے پر فوجی کارروائی بدترین ظلم ہے اور جنرل مشرف کو اسکا کا جواب دینا ہو گا۔ ایک اور طالبہ نے کہا کہ وہ قیامت کے روز جنرل مشرف کا گریبان پکڑیں گی اور اپنے ساتھی طلباء اور طالبات کے قتل کا حساب ان سے مانگیں گی۔ | اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: آپریشن کا تیسرا روز، ہلاکتوں کی تعداد انیس05 July, 2007 | پاکستان برقعہ میں فرار: حمایت میں کمی05 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان ’زیادہ مزاحمت نہیں کر سکیں گے‘05 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||