’طالبات کو نکلنے نہیں دیا جارہا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر معصوم بچے اور خواتین موجود ہیں جنہیں مسجد کے اندر موجود مسلح افراد وہاں سے نکلنے نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کے تمام سیاسی قائدین اور مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور مدرسے کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ معصوم بچوں اور خواتین کو وہاں سے نکلنے دیں۔ انہوں نے یہ باتیں جمعہ کی شام یہاں ایک پریس کانفرنس سے میں کہیں جس سے وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ اور پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل ارشد وحید نے بھی خطاب کیا۔ درانی نے کہا کہ اس کارروائی میں انسانی جانوں کا ضیاع افسوسناک ہے تاہم انہوں نے کہا کہ صدر اور وزیر اعظم نے اس سلسلے میں ہدایت کی ہے کہ جو بھی کارروائی کی جائے اس میں مسجد اور مدرسے کے اندر موجود بچوں اور خواتین کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور یہ کہ کم سے کم انسانی جانوں کا ضیاع ہو۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے سے باہر آنے والی تمام طالبات کو گھر بھیجا جارہا ہے جبکہ طلبہ کو بھی رجسٹریشن کے بعد جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ’ہم اس بات کی بھی یقین دہانی کراتے ہیں کہ کسی کے ساتھ توہین آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا اور اگر اب تک ایسی کوئی غلطی کی گئی ہے تو اسے دہرایا نہیں جائے گا۔‘
سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے بتایا کہ اب تک لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے ایک ہزار دو سو اکیس افراد باہر آچکے ہیں جن میں سات سو پچانوے مرد اور چار سو چھبیس خواتین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نو طالبات کے سوا مسجد سے باہر آنے والی تمام طالبات کو ان کے گھر جانے دیا گیا ہے۔ انہوں نے لال مسجد کے نائب مہتمم غازی عبدالرشید سے کہا کہ وہ مسجد سے باہر آجائیں ان کی جان کو کوئی گزند نہیں پہنچائی جائے گی اور حکومت اس سلسلے میں ہر ضمانت دینے پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے معصوم بچوں اور خواتین کی قیمتی جانیں غازی عبدالرشید کے ہاتھ میں ہیں جن پر ان کے بقول مسلح افراد مقرر ہیں جو انہیں ڈھال بناکر بیٹھے ہیں اور باہر نکلنے نہیں دے رہے ہیں، ’حالانکہ ہماری اطلاعات کے مطابق وہ بچے رو رہے ہیں۔‘ انہوں نے غازی عبدالرشید کے اس موقف کو غلط قرار دیا کہ مسجد کے اندر موجود بچے اور خواتین اندر رہنے پر بضد ہیں۔ ’اگر یہ بات مان بھی لی جائے تب بھی اگر بچہ ایسی ضد کرے جس سے اس کی زندگی خطرے میں پڑ جائے تو کیا بزرگ اسے اس کی اجازت دیتے ہیں؟ لہذا ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ بچوں کو زبردستی باہر بھیجیں۔‘ کمال شاہ نے کہا کہ جمعہ کو انہوں نے لال مسجد میں محصور دس بچوں کے والدین کو اندر بھیجا جن پر اندر سے فائرنگ کی گئی اور ان میں سے ایک شدید زخمی ہوگیا۔ انہوں نے غازی عبدالرشید کو یہ بھی یقین دلایا کہ حکومت ان کی ضعیف العمر والدہ کی حفاظت اور رہائش کا بندوست کرنے اور بیماری کی صورت میں علاج کرانے پر بھی تیار ہے۔ کمال شاہ کے مطابق ’مسجد کے اندر ایک ہارڈ کور گروپ موجود ہے جس کا تعلق کس تنظیم سے ہے اور ان میں غیرملکی بھی ہیں یا نہیں اس بارے میں حکومت کے پاس تمام معلومات ضرور ہیں لیکن ابھی ان پر بات کرنا مناسب نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ لال مسجد کے اندر سے راکٹ بھی فائر کیا گیا ہے اور یہ بھی اطلاع ہے کہ اندر موجود مسلح افراد نے باردوی سرنگیں بھی بچھادی ہیں۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، ہلاکتوں میں اضافہ03 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کے حق میں مظاہرے03 July, 2007 | پاکستان خودکش حملوں کی دھمکی06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد: خطبہ جمعہ کا متن06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر06 April, 2007 | پاکستان لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی07 April, 2007 | پاکستان لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات08 April, 2007 | پاکستان عدالتی بحران کمبل، لال مسجد خفیہ ہاتھ27 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||