BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 July, 2007, 06:24 GMT 11:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘
اسلام آباد اور پنڈی کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے
لال مسجد آپریشن کے دوران حکام نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں صحافیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ لال مسجد کے قریب جی ِسکس کے بیشتر علاقوں میں جہاں کارروائی جاری ہے وہاں صحافیوں کی رسائی پہلے ہی سے محدود ہے۔

ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر میڈیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔

ایمبولینسوں کے ذریعے بڑی تعداد میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے۔

اسلام آباد کے پمز ہاسپٹل کے مین گیٹ سے آگے صحافیوں کو نہیں جانے دیا جا رہا۔ ہمارے نمائندے اعجاز مہر کے مطابق ہسپتال میں رینجز اور پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔ اب تک ہسپتال میں نو کمانڈوز کو لایا گیا تھا جن میں دو ہلاک ہو گئے ہیں، اس کے علاوہ چھ طلباء کو بھی لایا گیا تھا جن میں اٹک سے تعلق رکھنے والے سُہیل نامی ایک طالبعلم جس کو سر میں گولی لگی ہے، اُن کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

شدید زخمی سُہیل کے والد محمد داؤد نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا اپنے بیٹے سے گزشتہ دو دن سے رابطہ تھا۔ اُن کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ باہر آنا چاہتا ہے لیکن اُسے باہر نہیں آنے دیا جا رہا۔

ایک ہفتے قبل لال مسجد سے منسلک مدرسوں جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کے طلبہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں ایک اخبار نویس ہلاک اور کم از کم دو زخمی ہوگئے تھے۔

ہلاک ہونے والے صحافی کا نام جاوید خان تھا جو ایک مقامی اخبار کے لیے کام کرتے تھے جبکہ زخمیوں میں مقامی اردو چینل کے بیورو چیف ابصار عالم اور ٹی وی کیمرہ مین اسرار شامل تھے۔

آپریشن کا ایک ہفتہ
مورچے قائم، محاصرہ جاری: تصاویر میں
 مولوی فقیر محمد طالبان کی دھمکی
’لال مسجد محاصرہ ختم نہ ہوا تو اعلانِ جہاد‘
لال مسجد طالب(فائل فوٹو)’وہ تو صحافی تھا‘
’میرا بیٹا نہ دہشتگرد تھا نہ سپریم کمانڈر‘
اسی بارے میں
لال مسجد: ایک صحافی ہلاک
03 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد