’میرا بیٹا دہشتگرد نہیں صحافی تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد آپریشن میں مارے جانے والے ایک شخص مقصود احمد کے والد نے حکومت کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم جیش محمد کا رکن تھا یا وزیرِاعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں ملوث تھا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے اتوار کو ایک اخباری کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ لال مسجد کے محاصرے کے پہلے روز ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت کالعدم تنظیم جیش محمد کے رکن مقصود احمد طور پر کروائی تھی۔ وزیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ شخص سن دو ہزار چار میں اٹک میں وزیر اعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھا۔ تاہم پیر کو اٹک شہر سے تعلق رکھنے والے مقصود احمد کے والد میجر ریٹائرڈ احمد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تمام الزامات بےبنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میرے بیٹے کے بارے میں حکومت کا یہ الزام کہ وہ سرکردہ شدت پسند تھا، سپریم کمانڈر تھا یا وزیراعظم پر حملے میں ملوث تھا یہ سب غلط باتیں ہیں‘۔ مقصود احمد کے والد کے مطابق’ان کا انتیس سالہ بیٹا کراچی میں دارالعلوم سے فارغ تحصیل تھا اور پیشے کے اعتبار سے صحافی اور کالم نگار تھا۔ وہ ہفت روزہ ’القلم’ اور روزنامہ ’جناح’ میں کالم اور کتابیں لکھتے تھے، اور بچوں کے لیئے ایک ماہنامہ ’اچھے بچے’ شائع کیا کرتے تھے‘۔ مقصود کے والد کا کہنا تھا کہ اگر ان کا بیٹا شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہوتا تو پولیس یا دیگر تحقیقاتی ادارے ان سے رابطہ کرتے لیکن آج تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے شدت پسند تنظیموں سے ان کے تعلق سے بھی انکار کیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ ان کے برخوردار لال مسجد میں کیا کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور صحافی گئے تھے تاہم انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ وہاں کیسے رہ گئے جبکہ باقی صحافی نکل گئے تھے۔ ’مجھے نہیں معلوم وہ کیسے وہاں رہ گیا وہ مجھ سے مل کر نہیں گیا تھا‘۔ میجر ریٹائرڈ احمد محمود کا کہنا تھا کہ ان کا حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کا نام اس طرح غلط انداز میں نہ لیا جائے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد آپریشن کا ازخود نوٹس 09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: کشیدگی برقرار09 July, 2007 | پاکستان ’آپریشن روک دیں ورنہ اعلانِ جہاد‘09 July, 2007 | پاکستان ’سیزفائر کریں اور بیٹھ کر بات کریں‘08 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||