BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 July, 2007, 11:08 GMT 16:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میرا بیٹا دہشتگرد نہیں صحافی تھا‘

اعجاز الحق
اعجاز الحق نے مقصود احمد کو جیشِ محمد کا رکن قرار دیا تھا
لال مسجد آپریشن میں مارے جانے والے ایک شخص مقصود احمد کے والد نے حکومت کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم جیش محمد کا رکن تھا یا وزیرِاعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں ملوث تھا۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے اتوار کو ایک اخباری کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ لال مسجد کے محاصرے کے پہلے روز ہلاک ہونے والے ایک شخص کی شناخت کالعدم تنظیم جیش محمد کے رکن مقصود احمد طور پر کروائی تھی۔

وزیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ شخص سن دو ہزار چار میں اٹک میں وزیر اعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے میں بھی مبینہ طور پر ملوث تھا۔

تاہم پیر کو اٹک شہر سے تعلق رکھنے والے مقصود احمد کے والد میجر ریٹائرڈ احمد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تمام الزامات بےبنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’میرے بیٹے کے بارے میں حکومت کا یہ الزام کہ وہ سرکردہ شدت پسند تھا، سپریم کمانڈر تھا یا وزیراعظم پر حملے میں ملوث تھا یہ سب غلط باتیں ہیں‘۔

مقصود احمد کے والد کے مطابق’ان کا انتیس سالہ بیٹا کراچی میں دارالعلوم سے فارغ تحصیل تھا اور پیشے کے اعتبار سے صحافی اور کالم نگار تھا۔ وہ ہفت روزہ ’القلم’ اور روزنامہ ’جناح’ میں کالم اور کتابیں لکھتے تھے، اور بچوں کے لیئے ایک ماہنامہ ’اچھے بچے’ شائع کیا کرتے تھے‘۔

مقصود کے والد کا کہنا تھا کہ اگر ان کا بیٹا شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہوتا تو پولیس یا دیگر تحقیقاتی ادارے ان سے رابطہ کرتے لیکن آج تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے شدت پسند تنظیموں سے ان کے تعلق سے بھی انکار کیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ ان کے برخوردار لال مسجد میں کیا کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور صحافی گئے تھے تاہم انہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ وہاں کیسے رہ گئے جبکہ باقی صحافی نکل گئے تھے۔ ’مجھے نہیں معلوم وہ کیسے وہاں رہ گیا وہ مجھ سے مل کر نہیں گیا تھا‘۔

میجر ریٹائرڈ احمد محمود کا کہنا تھا کہ ان کا حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کا نام اس طرح غلط انداز میں نہ لیا جائے۔

آپریشن کا ایک ہفتہ
مورچے قائم، محاصرہ جاری: تصاویر میں
لال مسجد کے طلباءلال مسجد آپریشن
لال مسجد آپریشن میں اتوار کو کیا ہوا؟
 محصور افراد کے والدین اور رشتہ دار ’سراسر زیادتی ہے‘
’فوج کا کام تحفظ کرنا ہے یا ہمیں پریشان کرنا‘
اسی بارے میں
لال مسجد: کشیدگی برقرار
09 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد