’بیٹی شہید ہوئی تو خوش نصیبی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوام کی ایک بڑی تعداد لال مسجد کے شدت پسندوں کے خلاف حکومت کے آپریشن کی حمایت کر رہی ہے لیکن ایک ایسی ماں بھی ہے جو کہتی ہے کہ لال مسجد میں اس کی محصور بیٹی اگر ہلاک ہو گئی تو یہ اس کی خوشی نصیبی ہوگی۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی آسیہ بی بی ان والدین میں شامل ہیں جو لال مسجد میں محصور اپنے بچوں کو لینے کے لیے پچھلے چھ روز سے جی سکس کے علاقے کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔ آسیہ بی بی کہتی ہیں کہ ان کی بیٹی چھ سال سے جامعہ حفصہ میں تعلیم حاصل کر رہی تھی اور اسی روز اس کا کورس مکمل ہونا تھا جب لال مسجد کے خلاف آپریشن شروع ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ’اگر میری بیٹی زندہ نہ بھی بچی تو یہ بھی میری خوش نصیبی ہو گی کہ وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو گئی ہے اور اگر وہ بچ گئی تو بھی خوش نصیبی ہوگی کہ وہ غازی بن کر لوٹی ہے‘۔ آسیہ بی بی کہتی ہیں کہ غازی برادان جو کچھ کر رہے تھے وہ ملک سے بدی اور فحاشی کو ختم کرنے کے لیے مہم تھی اور وہ اس میں حق بجانب تھے۔’وہ جوئے خانے بند کر رہے تھے، سی ڈیز دکانوں کو بند کر رہے تھے اس میں کیا غلط ہے؟‘۔ لال مسجد کی طرف حکومت کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے آسیہ بی بی نے کہا کہ لال مسجد نے صحیح راستہ اختیار کر رکھا ہے اور وہ معاشرہ کو برائیوں سے پاک کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ان (غازی برادارن ) کو نہیں پتہ تھا کہ ان کا مقابلہ ’ظالم دہشتگردوں‘ سے ہے اور وہ ان کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مہر النسا کے دو بیٹے لال مسجد سے نکل تو آئے لیکن اب وہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے چنگل میں پھنس گئے ہیں۔ مہرالنساء کہتی ہیں کہ ان کا ایک بیٹا عصر کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں آیا لیکن جب وہاں حالات خراب ہو گئے تو دوسرا بھائی اس کو لینے کے لیے آیا لیکن وہ بھی وہیں پھنس کر رہ گیا۔ مہرالنسا کے دونوں بیٹوں کو ایک روز کے بعد مسجد سے نکلنے کا موقع مل گیا لیکن اب وہ پولیس کی تحویل میں ہیں لیکن پولیس ان کو رہا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ مہرالنساء کہتی ہیں کہ وہ کہا ں جائیں’ یہ فوج ہمارے تحفظ کے لیے یا ہمیں پریشان کرنے کے لیے ہوتی ہے‘۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صوبہ پلندری سے تعلق رکھنے والے امجد رمضان لال مسجد میں پھنسے اپنے چھوٹے بھائی ثاقب رمضان کو لینے کے لیے پچھلے کئی روز سے جی سکس میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ امجد رمضان کا کہنا ہے کہ’انتظامیہ نےخود ان کو تیار کیا، خود ہی اسلحہ دیا اور اب لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو مار رہی ہے۔یہ تو سراسر زیادتی ہے‘۔امجد رمضان کہتے ہیں کہ ایک روز پہلے ان کا اپنے بھائی سے رابطہ ہوا تھا اور وہ کہتا ہے کہ مسجد والوں کی طرف سے کوئی زبردستی نہیں کی جا رہی ہے۔ سیکٹر جی سیون میں رہائش پذیر نبیلہ اپنے بھائی کی تلاش میں روزانہ لال مسجد کے قریب اس امید پر بیٹھی رہتی ہیں کہ ان کا بھائی مسجد سے نکل آئے گا۔نبیلہ کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی لال مسجد میں صرف نماز پڑھنےگیا اور ابھی تک وہیں موجود ہے۔ ان کا کہنا کہ ان کا بھائی راولپنڈی میں واقع اصغر مال کالج میں ایم اے اکنامکس کا طالبعلم ہے۔ نبیلہ کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے بھائی سے موبائل فون کے ذریعے رابطہ ہے اور وہ صرف اس لیے مسجد سے باہر نہیں آ رہا ہے کہ اسے ڈر ہے کہ رینجرز اسے گولی مار دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||