’بھاگنے کی کوشش کی تو گولی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری ٹی وی چینل نے سنیچر کو لال مسجد سے باہر نکلنے میں کامیاب ہونے والے ایک چودہ سالہ بچے کا انٹرویو نشر کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ مدرسے میں اب بھی ایک سو سے زائد بچے موجود ہیں۔ تاہم مری سے تعلق رکھنے والے اس لڑکے کو جس کا نام جواد ولد عبدالطیف بتایا گیا ہے نجی ٹی وی چینلز سے دور رکھا گیا ہے۔ بچے نے بتایا کہ مسجد میں موجود لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر کسی نے باہر جانے کی کوشش کی تو اسے گولی مار دی جائے گی۔ جواد کا کہنا تھا کہ وہ ایک دیوار کے قریب کل رات سے چھپ گیا تھا اور آج صبح موقع ملتے ہی باہر نکل آیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے مسجد کے اندر مسلح لوگوں کے پاس پٹرول بم اور کلاشنکوف ہیں۔ جواد نے بتایا کہ وہ مدرسے میں اپنی بہن کو لینے آیا تھا لیکن وہاں پھنس گیا، تاہم اس کی بہن کو ان کا بڑا بھائی لیجانے میں کامیاب رہا تھا۔ سفید ٹوپی پہنے اس لڑکے نے بتایا کہ انہیں کھانے کے لیے بسکٹ اور چپس مل رہے تھے۔ ساتھ میں ان کی جیبوں میں پرچیاں بھی ڈالی گئی تھیں جن پر لکھا تھا کہ میں ہلاک ہونے کی صورت میں شہید ہوں گا اور جنت میں جاؤں گا۔ اس کے علاوہ اس پرچی پر ان کا نام پتہ بھی لکھا گیا تھا۔ اس بچے کو دیگر ٹی وی چینلز سے بات کرنے نہیں دیا گیا تاہم دور رکھنے کی وجہ واضع نہیں ہے۔ مسجد سے نکلنے والے طلبہ و طالبات کی تعداد میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی آتی جا رہی ہے۔ سنیچر کو صرف یہ لڑکا ہی واحد فرد ہے جو نکلنے میں بظاہر کامیاب رہا ہے۔ ادھر صحافیوں کو مسجد کے قریب کورڈ مارکیٹ کے قریب قائم سرنڈر پوائنٹ سے نکل جانے کے لیئے کہا گیا ہے۔ ان کے اس پوائنٹ تک جانے پر کل سے پابندی عائد ہے۔ صحافی کئی روز سے اس مقام سے مسجد کے گرد صورتحال کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کر رہے تھے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||