’لال مسجد والے ہتھیار ڈال دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ لال مسجد والے ہتھیار ڈال دیں ورنہ مارے جائیں گے۔ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران سنی شوران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ حکومت زیادہ طاقتور ہے اور لال مسجد کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، لیکن انہیں مسجد میں موجود بے گناہ عورتوں اور بچوں کا خیال آتا ہے کہ کہیں نقصان نہ پہنچ جائے۔ سنیچر کی رات لال مسجد کے علاقے میں شدید فائرنگ کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے جبکہ زوردار دھماکوں کی آواز بھی آ رہی ہے۔ فائرنگ اور دھماکوں کا تازہ سلسلہ ایک گھنٹے سے جاری ہے اور اس میں بظاہر وقت کے ساتھ ساتھ تیزی آ رہی ہے۔ سنیچر کو ہی جی سکس سیکٹر سے کافی دور واقع ایف سکس سیکٹر میں نامعلوم سمت سے آنے والی گولی لگنے سے ایک عام شہری زخمی ہو گیا ہے۔ خلیل خان نامی اس شخص کو پولی کلینک ہسپتال لایا گیا ہے جہاں اس کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ رات کا کھانا کھا رہا تھا کہ کھرکی سے آنے والی ایک گولی اس کی ٹانگ میں لگی ہے۔ جی سکس سیکٹر جہاں کہ لال مسجد واقع ہے وہاں تو کئی عام شہری گولیوں سے زخمی ہوچکے ہیں تاہم ایف سکس سیکٹر میں پہلا واقع ہے۔
سنیچر کو ہی ارکان پارلیمان اور علماء پر مشتمل ایک پانچ رکنی وفد نے لال مسجد میں مورچہ بند عبدالرشید غازی اور ان کے مسلح ساتھیوں سے ملاقات کی کوشش کی تاکہ انہیں قائل کیا جاسکے کہ وہ مسجد میں ’محبوس‘ بچوں کو باہر آنے دیں لیکن ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ وفد میں شامل متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی سمیعہ راحیل قاضی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں لال مسجد میں جانے ہی نہیں دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر آپریشن بند کر دے جبکہ لال مسجد انتظامیہ کو بھی بچوں کی حوالگی کے مسئلے پر ضد چھوڑ دینی چاہیے۔ ادھر عبدالرشید غازی نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد حکومت کے بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے اور تیس طالبات کو تو انہوں نے جامعہ حفصہ کے اندر اجتماعی قبر میں دفنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صرف ایک طالبعلم کی لاش تدفین کی منتظر ہے، جسے پوسٹ مارٹم کرانے کی غرض سے ملاقات کے لیے آنے والے علماء اور ارکان پارلیمان کے وفد کے حوالے کیا جائے گا۔ اس حکومتی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ وہ خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، عبدالرشید غازی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ مذہبی رہنماؤں سے مسجد میں ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
لال مسجد اور اس سے منسلک جامعہ حفصہ کے مذہبی شدت پسندوں کے خـلاف منگل کو شروع کیے گئے آپریشن میں سکیورٹی فورسز اور ہتھیار بندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں اب تک اکیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ حکومت لال مسجد میں مورچہ بند ہتھیار بندوں کو غیر مشروط طور ہتھیار ڈال کر گرفتاریاں دینے کا کہہ رہی ہے جبکہ عبدالرشید غازی کا کہنا ہے کہ ہتھیار تو حوالے کیے جا سکتے ہیں لیکن وہ اور ان کے ساتھی خود کو حکام کے حوالے نہیں کرینگے۔ ان کا اصرار ہے کہ انہیں باہر نکلنے کا محفوظ راستہ دیا جائے۔ سنیچر کی صبح علاقے میں دھماکوں اور فائرنگ کے تبادلے کی آوازیں سنی گئیں اور مسجد سے آگ اور دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ آپریشن کے آغاز سے لیکر اب تک بارہ سو کے لگ بھگ طلبا و طالبات لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو چھوڑ چکے ہیں۔ لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ ابھی بھی خاصی تعداد میں لوگ لال مسجد میں موجود ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لال مسجد میں موجود افراد کی حتمی تعداد کا تو اندازہ نہیں ہے لیکن وہاں اس وقت پچاس سے ساٹھ مسلح شدت پسند مورچہ بند ہیں، جبکہ عبدالرشید غازی کا کہنا ہے کہ لال مسجد میں انیس سو طلبا و طالبات اب بھی موجود ہیں۔
تاہم برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار ہونے والے لال مسجد کے مہتمم اور عبدالرشید غازی کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کے مطابق لال مسجد میں ساڑھے آٹھ سو کے قریب طلبا و طالبات موجود ہیں۔ پولیس، رینجرز اور فوجی دستے لال مسجد کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق مسجد اور جماعہ حفصہ کے پانی، گیس اور بجلی کے کنکشن کاٹ دیئے گئے ہیں جبکہ خوراک کا ذخیرہ بھی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ سےنکلنے والےطلباء کی برہمی06 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||