BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 July, 2007, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آپریشن روک دیں ورنہ اعلانِ جہاد‘

 مولوی فقیر محمد
مولوی فقیر محمد نے لال مسجد کے محاصرہ کی شدید مذمت کی
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے حکومت پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اگر لال مسجد کا محاصرہ فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو وہ ان کے خلاف اعلان جہاد کر دیں گے۔

باجوڑ سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان کے امیر مولوی فقیر محمد کی رہنمائی میں پیر کو صدیق آباد پھاٹک کے مقام پر ایک بڑا جلسۂ عام منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں جہادی تنظیموں کے کارکنوں اور دیگر قبائلیوں نے شرکت کی۔

جلسے میں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ جلسہ گاہ میں مولوی فقیر کے چھ سو کے قریب ساتھی بھی موجود تھے جو راکٹ لانچرز اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے لیس تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جلسہ کے موقع پر باجوڑ کے تمام اہم تجارتی مراکز عنایت کلے، صدر مقام خار اور دیگر بازار مکمل طور پر بند تھے۔

جلسے میں شرکت کرنے والے باجوڑ امن جرگہ کے سربراہ ملک عبد العزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ اجتماع میں شریک طالبان کے امیر مولوی فقیر محمد اور دیگر افراد نے لال مسجد کے محاصرہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ مقررین نے حکومت کو دھمکی دی کہ اگر لال مسجد کے خلاف جاری آپریشن فوری طورپر بند نہیں کیا گیا تو وہ حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیں گے۔

مقررین نے ایک بار پھر باجوڑ میں جاری سرکاری چیک پوسٹوں اور حکومتی اہلکاروں پر حملوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ جلسہ سے مولوی فقیر محمد، مولانا عنایت الرحمن، مولانا سید محمد اور امن جرگہ کے سربراہ ملک عبدالعزیز نے خطاب کیا۔

اس موقع پر جلسہ میں موجود ’مجاہدین‘ نے صدر جنرل پرویز مشرف کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا اور امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف نعرہ بازی کی جبکہ ’الجہاد الجہاد ’ کے نعرے بھی لگائے۔

ادھر گزشتہ رات نامعلوم افراد نے باجوڑ کے سول کالونی اور سکاؤٹس قلعہ پر تین راکٹ فائر کیے ہیں جس سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ پولیٹکل ذرائع کا کہنا ہے کہ راکٹ آدھی رات کو فائر کیے گئے ہیں جو سول کالونی اور سکاؤٹس قلعہ کے قریب واقع کھیتوں میں گرے جس سے ان کے مطابق کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

واضع رہے کہ اتوار کو بھی باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے تھے۔ اس سے قبل چار سکیورٹی اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے نواگئی کے علاقے سے اغواء کیا تھا جو تاحال بازیاب نہیں کرائے جاسکیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد