لال مسجد آپریشن کا ازخود نوٹس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معاملہ پر اٹارنی جنرل، سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد کو چار بجے عدالت میں پیش ہونے کے لیے حکم جاری کیا ہے۔جبکہ لال مسجد انتظامیہ کے خلاف حکومتی کارروائی کے ساتویں دن مسجد کے اطراف میں کشیدگی برقرار ہے۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سوموار کی صبح اٹارنی جنرل کو تین بجے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ تین بجے جب جسٹس نواز محمد عباسی کی سربراہی میں قائم بینچ نے سماعت شروع کی تو اٹارنی جنرل کے بجائے ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اس میں معصوم جانوں کی زندگی کا سوال ہے اس لیے اٹارنی جنرل ہی عدالت میں پیش ہوں۔عدالت نے حکم دیا کہ اٹارنی جنرل کے علاوہ سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں پیش ہوں۔ دریں اثناء صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک لال مسجد کے معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدرات کی اور معاملے کا حل نکالنے کے بارے میں صلح مشورے کیے۔ تاہم اس اجلاس کے بارے میں مزید کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس نے جسٹس نواز محمد عباسی کے ایک خط پر لال مسجد آپریشن کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے دو رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔
جسٹس محمد نواز عباسی نے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی طرف سے اس معاملے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لال مسجد میں معصوم بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف حکومتی آپریشن بھی جاری ہے اور معتدد لوگ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق بہت سی لاشیں بے گور کفن پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک شدگان قانون نافذ کرنے والے اداروں یا جنگجوؤں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں اور ہر دونوں صورتوں میں یہ قتل عمد کے ضمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کے علاوہ کسی مذہبی، دینی، سماجی اور سیاسی تنظیم نے ان بے گناہ بچوں کو آزاد کرانے کی کوشش نہیں کی۔ جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل دو رکنی بینچ کی ابتدائی سماعت میں کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ اور وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ حکومت جلد از جلد اس صورتحال کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے اندر مشتبہ دہشتگرد موجود ہیں جو مختلف مقدمات میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ان دہشتگردوں نے طلباء کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اتوار کو بھی باہر نکلنے کی کوشش کرنے والی تین طالبات کو مدرسے کے اندر سے فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا۔ بریگیڈئر (ر) چیمہ نے یہ بھی دعٰوی کیا کہ لال مسجد کے احاطے میں محصور جامعہ حفصہ کی بارہ طالبات نے وہاں سے نکلنے کے لیے احتجاجاً بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔
پیر کو آپریشن کے ساتویں دن اسلام آباد میں صدر جنرل مشرف کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے جس میں وزیراعظم بھی شریک ہیں۔وفاق المدارس کے وفد نے بھی پیر کو اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔ لال مسجد آپریشن کے آغاز سے اب تک اس لڑائی میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی سکیورٹی فوسرز اور لال مسجد میں محصور افراد کے درمیان ساڑھے بارہ سے ڈھائی بجے کے درمیان ہلکی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکروں پر لال مسجد کے اندر افراد سے ہتھیار ڈالنے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کو کہا۔ اطلاعات کے مطابق رات کو مسجد کے اوپر ایک چھوٹا طیارہ بھی محوِ پرواز رہا۔ اس سے قبل اتوار کو سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے کر سربمہر کر دیا اور وہاں موجود ان چند صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ پریس کلب اس علاقے میں واقع ہے جہاں کرفیو نافذ ہے۔ ادھر آبپارہ تھانے میں مولانا عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کمانڈو گروپ کے لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات دورانِ آپریشن ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ سےنکلنے والےطلباء کی برہمی06 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||