علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے حکم پر چودھری شجاعت حسین اور اعجاز الحق اور علما کا ایک وفد بات چیت کر رہا ہے تاہم ابتدائی طور پر بات چیت کے مثبت نتائج ظاہر نہیں ہو رہے۔ بات چیت کے دوران ایک سیشن جج نے لال مسجد کے باہر پہنچ کر لاؤڈ سپیکر پر اعلان کرتے ہوئے اندر موجود افراد سے کہا کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کردیں لیکن تاحال غازی عبدالرشید اور ان کے ساتھی مسجد سے باہر نہ آنے کے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لال مسجد کی انتظامیہ سے چوہدری شجاعت حسین اور علماء کی ٹیم کے مذاکرات جاری ہیں تاہم وہ بات چیت کے لیے مسجد سے باہر آنے پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہ علماء مذاکرات میں شریک ہیں۔ابھی تک غازی عبدالرشید سے ہی رابطہ ہوا ہے اور انہی سے بات چیت ہورہی ہے۔ اس سے قبل چوہدری شجاعت حسین نے بتایا تھا کہ انہوں نے اندر اپنا موبائل فون بھیجا تھا جوآدھ گھنٹے تک مصروف رہا جس کی بناء پر اس پر غازی عبدالرشید سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا ہے۔ جو وفد عبدالرشید سے بات چیت کر رہا تھا اس کے ہمراہ عبدالستار ایدھی اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی بھی تھیں۔غازی عبدالرشید نے مذاکراتی ٹیم کو میگا فون پر اپنا موبائل نمبر بتایا جس پر ان سے وفد میں شامل مفتی محمد نعیم اور بلقیس ایدھی کی بات ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق عبدالرشیدغازی نے وفد کو بات چیت کے لیے مسجد کے اندر آنے کا کہا جس پر علماء کے وفد نے مسجد کے باہر تعینات پاکستانی فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے حکام سے بات کی۔ تاہم ذرائع کے مطابق حکام نے انہیں اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اعجاز الحق نے میگا فون پر عبدالرشید غازی سے کہا کہ وہ مسجد سے پندرہ بیس گز کے فاصلے پر موجود سکول میں آجائیں یا پھر جامعہ حفصہ کی عمارت کے قریب واقع پل پر چلیں آئیں لیکن عبدالرشید غازی مسجد سے باہر آنے سے انکار کرتے رہے۔ غازی عبدالرشید کو بات چیت کے لئے باہر سے ایک موبائل فون بھی بھیجا گیا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے لال مسجد کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئےحکم دیا تھا کہ علما کے ایک سات رکنی وفد کا رابطہ پیر کو عبدالرشید غازی سے کرایا جائے۔ سپریم کورٹ کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ سرنڈر کی صورت میں لال مسجد میں موجود شدت پسندوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ تاہم عدالتِ عظمیٰ نے غازی عبدالرشید کے اس مطالبے کو کوئی حکم یا آبزرویشن نہیں دی تھی کہ انہیں لال مسجد سے نکلنے پر ’محفوظ راستہ‘ فراہم کیا جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی بجائے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اس میں معصوم جانوں کی زندگی کا سوال ہے اس لیے اٹارنی جنرل ہی عدالت میں پیش ہوں۔عدالت نے حکم دیا تھا کہ اٹارنی جنرل کے علاوہ سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں پیش ہوں۔ سات رکنی وفد میں رائے بشیر، ڈاکٹر عادل، عبدالحمید، مفتی رفیع عثمانی، عبدالرشید، حنیف جالندھری اور مفتی محمد نعیمی شامل ہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ حکومت سے ہدایات لیں کہ سرنڈر کی صورت میں نکلنے والوں کی حفاظت کی ضمانت کس طرح دی جا سکتی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ سرنڈر کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر سرنڈر کرنے والے چاہیں تو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے بھی اپنے آپ کو سرنڈر کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس نے جسٹس نواز محمد عباسی کے ایک خط پر لال مسجد آپریشن کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے دو رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔
جسٹس محمد نواز عباسی نے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی طرف سے اس معاملے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لال مسجد میں معصوم بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف حکومتی آپریشن بھی جاری ہے اور معتدد لوگ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق بہت سی لاشیں بے گور کفن پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک شدگان قانون نافذ کرنے والے اداروں یا جنگجوؤں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں اور ہر دونوں صورتوں میں یہ قتل عمد کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کے علاوہ کسی مذہبی، دینی، سماجی اور سیاسی تنظیم نے ان بے گناہ بچوں کو آزاد کرانے کی کوشش نہیں کی۔ جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل دو رکنی بینچ کی ابتدائی سماعت میں کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ اور وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ حکومت جلد از جلد اس صورتحال کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے اندر مشتبہ دہشتگرد موجود ہیں جو مختلف مقدمات میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ان دہشتگردوں نے طلباء کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اتوار کو بھی باہر نکلنے کی کوشش کرنے والی تین طالبات کو مدرسے کے اندر سے فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا۔ بریگیڈئر (ر) چیمہ نے یہ بھی دعٰوی کیا کہ لال مسجد کے احاطے میں محصور جامعہ حفصہ کی بارہ طالبات نے وہاں سے نکلنے کے لیے احتجاجاً بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔
لال مسجد آپریشن کے آغاز سے اب تک اس لڑائی میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی سکیورٹی فوسرز اور لال مسجد میں محصور افراد کے درمیان ساڑھے بارہ سے ڈھائی بجے کے درمیان ہلکی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکروں پر لال مسجد کے اندر افراد سے ہتھیار ڈالنے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کو کہا۔ اطلاعات کے مطابق رات کو مسجد کے اوپر ایک چھوٹا طیارہ بھی محوِ پرواز رہا۔ اس سے قبل اتوار کو سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے کر سربمہر کر دیا اور وہاں موجود ان چند صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ پریس کلب اس علاقے میں واقع ہے جہاں کرفیو نافذ ہے۔ ادھر آبپارہ تھانے میں مولانا عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کمانڈو گروپ کے لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام سنیچر آپریشن ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ سےنکلنے والےطلباء کی برہمی06 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||