’ہم آپریشن نہیں رکوا سکتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف جاری آپریشن کو روکنے کا حکم جاری کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لال مسجد سے متعلق از خود نوٹس کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ آئین کے آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت اگر فوج سویلین کی مدد کے لیے آئی ہو تو عدالت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان اور وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو حکم جاری کیا کہ وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ آپریشن سے متعلق مکمل معلومات عدالت کو فراہم کریں۔ لال مسجد سے متعلق مقدمے کی اگلی سماعت جمعہ کے روز ہو گی۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وزارت داخلہ کو یہ بھی احکامات جاری کیے کہ مرنے والوں اور زخمیوں کے کوائف پر مشتمل فہرستیں ہسپتالوں کے باہر آویزاں کی جائیں اور طلباء اور طالبات کے والدین اور رشتہ داروں کو ان کے عزیزوں کی لاشیں دیکھنے اور زخمیوں سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے پیر کے روز لال مسجد کے واقعے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل دو رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آپریشن کے دوران لال مسجد سے باہر آنے والے اٹھارہ سال سے کم عمر کے طلبا کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیا البتہ تین ایسے طالبعلم اب بھی حکومت کی تحویل میں ہیں جن کے والدین ان کو لینے کے لیے نہیں پہنچ پائے ہیں۔ اٹارنی جنرل نےعدالت کو بتایا کہ لال مسجد سے باہر آنے والے طلباء کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔ عدالت نے حکم جاری کیا کہ جن ہسپتالوں میں لال مسجد میں آپریشن کے دوران زخمی یا ہلاک ہونے والوں کو لایا گیا ہے ان کی فہرست جاری کی جائے اور ان کو علاج معالجے کی مکمل سہولتیں مہیا کی جائیں۔ | اسی بارے میں لال مسجد: فوجی کارروائی کے بعد خاموشی، کم سے کم 40 ہلاک10 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: اتوار کو کیا کیا ہوا؟08 July, 2007 | پاکستان ’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘10 July, 2007 | پاکستان عبدالرشیدغازی ہلاک، آپریشن جاری10 July, 2007 | پاکستان 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے10 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||