لال مسجد: فوجی کارروائی کے بعد خاموشی، کم سے کم 40 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد پر منگل کو سویرے شروع ہونے والا فوجی آپریشن جاری ہے۔ آپریشن صبح چار بجے کے بعد شروع ہوا لیکن پونے آٹھ بجے تک دھماکوں اور فائرنگ کے بعد خاموشی ہوگئی۔ فوج کا کہنا تھا کے عمارت سے مزاحمت تقریباً ختم ہو گئی تھی لیکن اب وہ عمارت کے طے خانوں میں داخل ہو کر ان کی چیکنگ کرنے کا عمل شروع کر رہے ہیں۔ اس عمل کے شروع ہونے کے بعد بھی کئی دھماکے سنائے دیے گئے۔ ہیلی کاپٹرز بھی یہاں پرواز کرتے دکھائی دیے ہیں۔ ایمیولنسز زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں لے کر گئے ہیں۔ان تمام ہسپتالوں میں امرجنسی نافذ ہے اور صحافیوں کے داخلے پر سخت پابندی لگائی گئی ہے۔ ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر میّیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔ مولانا عبدالرشید غازی کی ٹیلی فون پر گفتگو لال مسجد میں محصور نائب مہتم عبدالرشید غازی کا دعوی تھا کہ مذاکرات میں ان کو ’دھوکہ دیا جا رہا تھا‘ اور وہ چاہتے تھے کہ ہر بات شفاف طریقے سے ہو’میں چاہتا تھا کہ ہر بات ٹرانسپیرنٹ ہو۔‘ ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے عبدالرشید غازی کا یہ کہنا تھا کہ ان کے پاس ’صرف چودہ کلاشنیکوو‘ تھے لیکن ’ہمارے بعد یہ یہاں بہت کچھ رکھ دیں گے۔‘ اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران جامعہ حفصہ میں آگ لگ گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق یہ آگ اندر موجود دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے شروع ہوئی۔ کالے دھویں کے بادل علاقے پر چائے ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر کی بریفنگ جنرل وحید کے مطابق مزاحمتکاروں نے راکٹ لانچر، مشین گن اور دستی بم استعمال کیے تھے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ہسپتال میں داخل ہونے والے صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ جنرل وحید نے کہا کہ آپریشن ختم ہونے اور مسجد سے عسکریت پسندوں کو نکالنے کے بعد صحافیوں کو وہاں لے جایا جا سکے گا۔ فوج کے مطابق کمانڈوز مسجد اور مدرسے میں داخل ہوئے تو انہیں شدید مزاحمت کا سامنا رہا۔ فوج کے مطابق بیس بچے مدرسے سے نکل کر باہر آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے اس وقت نکل سکے جب فائرنگ شروع ہونے پر مسلح افراد بھاگ کر دوسری منزل پر چلے گئے۔ ’یہ حتمی آپریشن ہے‘
مذاکارت کی ناکامی کا اعلان اس سے پہلے لال مسجد کے اندر محصور افراد سے حکومت کی طرف سے بات چیت کرنے والے حکمراں جماعت مسلم لیگ کے رہنما چودھری شجاعت حسین نے ان مذاکرات کی نا کامی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے کچھ ہی منٹوں بعد فوج نے بتایا تھا کہ لال مسجد میں محصور افراد کے خلاف حتمی آپریش اب شروع ہو چکا ہے۔ اسلام آباد میں آج سویرے مختصر اخباری کانفرنس میں چودھری شجاعت نے کہا کہ ان کو اس سلسلے میں سخت مایوسی ہوئی ہے اور یہ مذاکرات نا کام ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اس معاملے کو ’اللہ پر چھوڑتے ہیں۔‘ اخباری کانفرنس کے فوراً بعد لال مسجد سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔ ساتھ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے اعلان کر دیا کہ لال مسجد کے خلاف حتمی آپریشن کا اب آغاز ہو چکا ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے دو ٹوک الفاظ میں لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کی تصدیق کی ہے۔ مولانا عبدالرشید غازی سے پیشکش پیر کے روز سپریم کورٹ کے حکم پر حکمراں جماعت مسلم لیگ کے رہنما چودھری شجاعت حسین اور وفاقی وزیر برائے مذھبی امور اعجاز الحق اور علماء کے ایک وفد نے پیر کو بات چیت شروع کی جو رات دیر تک جاری رہی۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ لال مسجد کے قریب ایک گھر میں جاری مذاکرات میں حکومتی اہلکار اور وفاق المدارس کے نمائندوں کے علاوہ عسکری تنظیم حرکت المجاہدین کے مولانا فضل الرحمن خلیل بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم کے سالار اعلی مولانا فضل الرحمن خلیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ مسجد میں جا کر بات چیت کریں گے اور انہیں امید ہے کہ یہ معاملہ فجر سے پہلے نمٹا دیا جائے گا۔ تاہم اس سے پہلے حکام نے علماء کے وفد سمیت کسی کو مسجد کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن خلیل خوست میں مولانا عبد الرشید غازی کے عسکری تربیت کے استاد رہ چکے ہیں۔ دن بھر مذاکرات اور اعلانات اس سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ لال مسجد کی انتظامیہ سے چوہدری شجاعت حسین اور علماء کی ٹیم کے مذاکرات جاری ہیں تاہم وہ بات چیت کے لیے مسجد سے باہر آنے پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارہ علماء مذاکرات میں شریک ہیں۔ابھی تک غازی عبدالرشید سے ہی رابطہ ہوا ہے اور انہی سے بات چیت ہورہی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے بتایا تھا کہ انہوں نے اندر اپنا موبائل فون بھیجا تھا جو آدھ گھنٹے تک مصروف رہا جس کی بناء پر اس پر غازی عبدالرشید سے رابطہ قائم نہیں ہوسکا ہے۔ جو وفد عبدالرشید سے بات چیت کر رہا تھا اس کے ہمراہ عبدالستار ایدھی اور ان کی اہلیہ بلقیس ایدھی بھی تھیں۔غازی عبدالرشید نے مذاکراتی ٹیم کو میگا فون پر اپنا موبائل نمبر بتایا جس پر ان سے وفد میں شامل مفتی محمد نعیم اور بلقیس ایدھی کی بات ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق عبدالرشیدغازی نے وفد کو بات چیت کے لیے مسجد کے اندر آنے کا کہا جس پر علماء کے وفد نے مسجد کے باہر تعینات پاکستانی فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے حکام سے بات کی۔ تاہم ذرائع کے مطابق حکام نے انہیں اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ اعجاز الحق نے میگا فون پر عبدالرشید غازی سے کہا کہ وہ مسجد سے پندرہ بیس گز کے فاصلے پر موجود سکول میں آجائیں یا پھر جامعہ حفصہ کی عمارت کے قریب واقع پل پر چلیں آئیں لیکن عبدالرشید غازی مسجد سے باہر آنے سے انکار کرتے رہے۔ غازی عبدالرشید کو بات چیت کے لئے باہر سے ایک موبائل فون بھی بھیجا گیا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے لال مسجد کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئےحکم دیا تھا کہ علما کے ایک سات رکنی وفد کا رابطہ پیر کو عبدالرشید غازی سے کرایا جائے۔ سپریم کورٹ کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ سرنڈر کی صورت میں لال مسجد میں موجود شدت پسندوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ تاہم عدالتِ عظمیٰ نے غازی عبدالرشید کے اس مطالبے کو کوئی حکم یا آبزرویشن نہیں دی تھی کہ انہیں لال مسجد سے نکلنے پر ’محفوظ راستہ‘ فراہم کیا جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی بجائے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو سننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اس میں معصوم جانوں کی زندگی کا سوال ہے اس لیے اٹارنی جنرل ہی عدالت میں پیش ہوں۔عدالت نے حکم دیا تھا کہ اٹارنی جنرل کے علاوہ سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل اسلام آباد بھی عدالت میں پیش ہوں۔ سات رکنی وفد میں رائے بشیر، ڈاکٹر عادل، عبدالحمید، مفتی رفیع عثمانی، عبدالرشید، حنیف جالندھری اور مفتی محمد نعیمی شامل ہیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے کہا تھا کہ وہ حکومت سے ہدایات لیں کہ سرنڈر کی صورت میں نکلنے والوں کی حفاظت کی ضمانت کس طرح دی جا سکتی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ سرنڈر کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر سرنڈر کرنے والے چاہیں تو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے بھی اپنے آپ کو سرنڈر کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس نے جسٹس نواز محمد عباسی کے ایک خط پر لال مسجد آپریشن کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کا جائزہ لینے کے لیے دو رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔
جسٹس محمد نواز عباسی نے قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی طرف سے اس معاملے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لال مسجد میں معصوم بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری طرف حکومتی آپریشن بھی جاری ہے اور معتدد لوگ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق بہت سی لاشیں بے گور کفن پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک شدگان قانون نافذ کرنے والے اداروں یا جنگجوؤں کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں اور ہر دونوں صورتوں میں یہ قتل عمد کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ ایدھی فاونڈیشن کے علاوہ کسی مذہبی، دینی، سماجی اور سیاسی تنظیم نے ان بے گناہ بچوں کو آزاد کرانے کی کوشش نہیں کی۔ جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل دو رکنی بینچ کی ابتدائی سماعت میں کرائسز مینجمنٹ سیل کے سربراہ اور وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ حکومت جلد از جلد اس صورتحال کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے اندر مشتبہ دہشتگرد موجود ہیں جو مختلف مقدمات میں حکومت کو مطلوب ہیں۔ بریگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ ان دہشتگردوں نے طلباء کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اتوار کو بھی باہر نکلنے کی کوشش کرنے والی تین طالبات کو مدرسے کے اندر سے فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا۔ بریگیڈئر (ر) چیمہ نے یہ بھی دعٰوی کیا کہ لال مسجد کے احاطے میں محصور جامعہ حفصہ کی بارہ طالبات نے وہاں سے نکلنے کے لیے احتجاجاً بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے۔
لال مسجد آپریشن کے آغاز سے اب تک اس لڑائی میں کم سے کم بائیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی سکیورٹی فوسرز اور لال مسجد میں محصور افراد کے درمیان ساڑھے بارہ سے ڈھائی بجے کے درمیان ہلکی فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے کئی مرتبہ لاؤڈ سپیکروں پر لال مسجد کے اندر افراد سے ہتھیار ڈالنے اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرنے کو کہا۔ اطلاعات کے مطابق رات کو مسجد کے اوپر ایک چھوٹا طیارہ بھی محوِ پرواز رہا۔ اس سے قبل اتوار کو سکیورٹی حکام نے جی سِکس کے علاقے میں واقع پریس کلب کو اپنے کنٹرول میں لے کر سربمہر کر دیا اور وہاں موجود ان چند صحافیوں کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا جو براہ راست صورتحال پیش کر رہے تھے۔ پریس کلب اس علاقے میں واقع ہے جہاں کرفیو نافذ ہے۔ ادھر آبپارہ تھانے میں مولانا عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کمانڈو گروپ کے لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام سنیچر آپریشن ہلاک ہوگئے تھے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ سےنکلنے والےطلباء کی برہمی06 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||