’فائرنگ کی آواز دل پر لگتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد میں موجود مبینہ شدت پسندوں اور مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید کے خلاف جاری ’آپریشن سائلنس‘ جاری ہے اورگزشتہ بارہ گھنٹے سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور گولوں کی گھن گرج سنائی دے رہی ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے جاری محاصرے اور منگل کو علی الصبح آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک بارہ سو سے زائد طلباء و طالبات یا تو سرنڈر کر چکے ہیں یا پھر انہیں فرار کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم اب بھی مسجد کے احاطے میں طلباء و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کے اہلِ خانہ و رشتہ دار ان کی خیریت جاننے کے لیے بے چین اور بحفاظت واپسی کے لیے دعاگو ہیں۔ زاہد مینگل کے بارہ سالہ بھتیجے لال مسجد میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے’فائرنگ کی آواز ہمارے دل پر لگتی ہے۔ یہ معجزہ ہی ہے کہ ہم اب تک ہوش میں ہیں۔ آپ آئیں اور آ کر دیکھیں کہ ہمارے خاندان کن حالات سے گزر رہے ہیں‘۔ بادشاہ رحمان اپنے ان دو بیٹوں کے بارے میں فکر مند ہیں جو ایک ہفتے سے لال مسجد میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے’ وہ(مشرف) ہر طالبعلم کے لیے امریکہ، یورپ اور دوسروں سے ڈالر لے رہا ہے۔ اس نے ہمارے بچے ڈالروں کے لیے مار دیے ہیں‘۔ پمز ہسپتال میں شدید زخمی حالت میں موجود سُہیل نامی ایک طالبعلم کے والد محمد داؤد کا کہنا ہے کہ اُن کا اپنے بیٹے سے لال مسجد کے اندر سے رابطہ تھا کہ اور اُن کے بیٹے کا کہنا تھا وہ باہر آنا چاہتا تھا لیکن اُنہیں باہر نہیں آنے دیا جا رہا۔ محمد داؤد کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹے نے انتہائی پریشانی کی حالت میں اُن سے کہا تھا کہ وہ آبپارے کی طرف سے آ کر اُسے نکال لیں۔ صابر خان کی بھتیجی بھی لال مسجد کے احاطے میں پھنسی ہوئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں’ یہ صرف پاکستان کا بحران نہیں بلکہ تمام اسلامی دنیا کا مسئلہ ہے۔ یہ مذہب کا سوال ہے اور اس پر باقی دنیا توجہ دیے بنا نہیں رہ سکتی‘۔ |
اسی بارے میں لال مسجد آپریشن: لمحہ بہ لمحہ 10 July, 2007 | پاکستان ’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘10 July, 2007 | پاکستان ’ہم آپریشن نہیں رکوا سکتے‘10 July, 2007 | پاکستان آپریشن: 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی10 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||