اے پی سی: مشترکہ تحریک کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں آل پارٹیز کانفرنس نے صوبے میں فوجی آپریشن اور سیاسی قائدین اور کارکنوں کی رہائی کے حوالے سے ملکی سطح پر بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنے اور موجودہ حکمرانوں کے خلاف مشترکہ تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانفرنس میں شریک جماعتوں کے قائدین نے پاک افغان سرحد پر خاردار تار لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے منصوبے کی بھی مخالفت کی ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کانفرنس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اتوار کو ہونے والے اجلاس میں مختلف فیصلے کیےگئے جن میں بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ دہرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں عدلیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور لوگوں کی گمشدگی کے حوالے سے عدالت ازخود نوٹس لے اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر مینگل سمیت بلوچستان اور ملک بھر سے سیاسی قائدین اور کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ اس کانفرنس میں ڈاکٹر عبدالحئی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی جو مرکزی سطح پر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطے کر کے انہیں بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کریں گے اور اس سلسلے میں موجودہ حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک شروع کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اکیس جنوری کو بلوچستان کے تمام اضلاع میں پریس کلبز کے سامنے احتجاجی مظاہروں کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ کانفرنس پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کی اپیل پر منعقد کی گئی تھی اور اس کی صدارت پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر حاجی لشکری رئیسانی نے کی اور جماعت اسلامی کے قائدین نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی ہے۔ اس کانفرنس میں مسلم لیگ قائداعظم اور جمعیت علماء اسلام کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ یاد رہے گزشتہ سال انیس ستمبر کو اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے مرکزی قائدین اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ چند ہفتوں کے اندر سول نافرمانی تحریک شروع کی جائے گی اور اسمبلیوں سے مشترکہ طور پر استعفے دیے جائیں گے لیکن عملی اقدام کچھ نہیں ہوا۔ جب اس بارے میں ڈاکٹر عبدالحئی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد جاری ہے اور وہ مشترکہ تحریک پر یقین رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں 21 December, 2006 | پاکستان ’نواز، بے نظیر کو واپس جانے دیں‘22 December, 2006 | پاکستان سیاسی اتحادوں میں نئی صف بندی کے اشارے26 December, 2006 | پاکستان ’سارے فیصلے، اگلے دو تین ماہ میں‘07 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||