عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | کوئٹہ میں برقعہ پہنے ہوئے ایک عورت (فائل فوٹو) |
صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی خواتین ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اخبارات میں زیادتی کی شکار ہونے والی خواتین کی تصویروں کی اشاعت پر پابندی، کام کرنے والی خواتین کو پردہ کرنے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف اور خواتین کے لیے علیحدہ بسیں چلانے سے متعلق تین مختلف بل صوبائی اسمبلی میں جمع کرادیے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ناز نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انکی جانب سے صوبائی اسمبلی کے سکرٹریٹ میں جمع کرائے گئےایک بل میں کہا گیا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی اخبارات یا رسائل میں تصاویر شائع کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ انکے بقول بل میں خلاف ورزی کرنےوالے کو ایک سال قید یا پچاس ہزارروپے جرمانہ یا دونوں کی سزاتجویز کی گئی ہے۔ شگفتہ ناز کا مزید کہنا تھا کہ ’اخبارات اور رسائل میں اس کسی بھی متاثرہ خاتون کی تصویر کی اشاعت کی وجہ سے وہ عورت دوہرے ظلم کا شکار ہوجاتی ہے کیونکہ ایک طرف ان پر ظلم ہوا ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف تصویر کی اشاعت سے وہ ساری زندگی کے لیے سماج اور خاندان والوں کی نظروں میں گر جاتی ہے۔‘ شگفتہ ناز کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے لوکل بسوں میں سفر کرنے والی خواتین کے لیے علیحدہ نشستیں مختص کرنے اور صبح اور دوپہر کے اوقات میں خواتین کے لیے الگ بسیں چلانے سے متعلق قانون سازی کرنے کے لیے ایک اور بل بھی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔ ان کے مطابق ’ پشاور میں صبح اور دوپہر کے وقت کام کرنے والی خواتین اور طالبات کا رش زیادہ ہوتا ہے لیکن مخلوط بسوں میں ناکافی جگہ کی وجہ سے خواتین سفر کے دوران سخت مشکلات کا سامنا کرتی ہیں لہذا قانون سازی کے ذریعے ٹرانسپورٹروں اور حکومت کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ خواتین کے لیے علیحدہ نشستیں اور بسیں چلائیں۔، شگفتہ ناز کا کہنا تھا کہ سرحد اسمبلی کے سپیکر سیکرٹریٹ میں جمع کرائے گئے ایک تیسرے بل میں کہا گیا ہے کہ اگرصوبے کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں خواتین ملازمین کو عہدے میں ترقی، ملازمت یا داخلہ دینے میں پردے کی بنیاد پرامتیازی رویہ روا رکھا گیا تو یہ ایک قابل سزا عمل تصور ہوگا۔ شگفتہ ناز کاکہنا تھا کہ انکی کو شش ہے کہ تینوں بلوں پر بحث صوبائی اسمبلی کے رواں اجلاس میں ہو۔
|