BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 July, 2007, 21:15 GMT 02:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج تعیناتی،مجلس میں اختلافات

قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمان
قاضی حسین احمد اپنا استعفیٰ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں سپیکر کے حوالے کریں گے
صوبہ سرحد کی حکومت میں شامل متحدہ مجلس عمل کی دو اہم اتحادی جماعتوں کے درمیان صوبے میں فوج کی تعیناتی کے مسئلے پر اختلافات ابھر کر سانے آئے ہیں اور جماعت اسلامی نے فوج کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنیچر کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر اور سابق سینئرصوبائی وزیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کی ملاکنڈ ایجنسی، سوات اور ضلع دیر میں پاکستانی فوج نے سرکاری عمارات پر قبضہ کر رکھا ہے جس سے وہاں کے مقامی لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان علاقوں سے فوج کو جلد از جلد واپس بلایا جائے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ فوج کی تعیناتی کے حوالے سے صوبائی حکومت نے جماعت اسلامی کو اعتماد میں نہیں لیا لہذا ان کی جماعت اس سلسلے میں صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کرے گی۔

سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ ضلع سوات میں مقامی دینی عالم مولانا فضل اللہ کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن سے اجتناب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر وہاں ایک بھی گولی چلی تو یہ علاقے میں ایک بہت بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ مولانا فضل اللہ کے ساتھ تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں، خواہ اس میں کئی سال کیوں نہ لگیں۔

واضح رہے کہ جمیعت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال داود زئی نے گزشتہ روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ لال مسجد کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے اور صوبے میں طالبانائزیشن کے خاتمے کے لیے صوبہ سرحد کی حکومت کی درخواست پر مرکزی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن اور جنوبی اضلاع میں فوجیوں کو تعینات کر دیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت میں شامل جماعت اسلامی نے صوبے میں فوج کی تعیناتی پر ایک ایسے وقت اعتراض کیا ہے جب متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد