جلاوطنی معاہدے کی نقل عدالت میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور انکے خاندان کی وطن واپسی سے متعلق آئینی درخواست پر قانونی اعتراضات پر مشتمل جواب دعوٰی عدالت میں جمع کروا دیا ہے جس میں نواز شریف کے بیرون ملک روانگی کے وقت ہونے والے مبینہ معاہدے کی نقل بھی شامل کی گئی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے جمع کروائی گئی ایک اور درخواست میں اس معاہدے کی اصل دستاویز جمع کروانے کے لئے تین ہفتے کی مہلت طلب کی گئی ہے۔ بدھ کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کو معاہدے کی دستاویز عدالت میں جمع کروانے کے لیے دی گئی مہلت کا آخری دن تھا۔ حکومت کی جانب سے دائر کیےگئے جواب دعوی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کی بیرون ملک روانگی ان کی آزاد مرضی سے عمل میں آئی لہذٰا یہ معاملہ صرف ایک خاندان تک محدود ہے اور کسی طور انسانی حقوق کا معاملہ نہیں بنتا۔ شریف خاندان کی بیرون ملک روانگی کا جواز جس معاہدے کو قرار دیا گیا ہے وہ تین پیروں پر مشتمل ایک تحریر ہے جس میں شریف خاندان کے ہر فرد کے علیحدہ علیحدہ دستخط موجود ہیں لیکن سرکار کی طرف سے کسی کے دستخط نہیں موجود نہیں ہیں۔ جواب دعوٰی کی جو کاپی صحافیوں میں تقسیم کی گئی اس کے ساتھ نوازشریف کے دستخط والا معاہدہ منسلک کیا گیا ہے۔ دو دسمبر سنہ دو ہزار کو ہونے والے اس معاہدے پر نواز شریف نے اپنی جانب سے ایک ایسی شخصیت کو حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت دی ہے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ معاہدے میں نواز شریف سمیت تمام اہل خانہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ دس سال تک پاکستان واپس نہیں آئیں گے اور نہ ہی سیاست میں حصہ لیں گے۔ معاہدے کی کاپی کے سامنے آنے کے بعد بی بی سی اردو کے جاوید سومرو سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ’میں نے آج تک کبھی اس معاہدے سے انکار نہیں کیا۔ میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ اگر ایک قیدی سے زبردستی بندوق کی نوک پر کوئی معاہدہ کروایا جائے تو اس کی کیا حیثیت ہو گی؟‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے پاس اپنی زندگی بچانے کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ لانڈھی جیل میں جب اس مبینہ معاہدے پر دستخط کروائے گئے تو اس میں کیا تھا اور اس میں بعد میں کیا شامل کر دیا گیا ہو۔ اس معاہدے کی کوئی اخلاقی اور قانونی بنیاد نہیں ہے۔ اگر جھوٹے مقدمات میں ہمیں سزا دینے کی کوشش کی گئی تو ہم اس سے ہرگز نہیں ڈرتے‘۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے جاری شدہ دستاویزات حکومتِ پاکستان اور شریف برادران کے درمیان معاہدہ ہیں۔ انہوں نے معاہدے میں درج اس شخص کا نام بتانے سے انکار کر دیا جس نے معاہدے میں شریف بردران کی ضمانت دی۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ معاہدے میں مبینہ شخص کا تعلق ایک دوست ملک سے ہے اس لیے ان کا نام نہیں بتایا جا سکتا۔ جب ملک قیوم سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عدالت کو بھی مبینہ شخص کا نام بتانے سے گریز کریں گے تو ان کا جواب تھا ’اگر عدالت نے اس دستاویز کو ماننے سے انکار کیا تو ظاہری بات ہے ہمیں ساری تفصیل بتانی ہو گی‘۔ پاکستانی اٹارنی جنرل نے کہا کہ شریف برادران اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ان کے دستخط اس معاہدے پر موجود ہیں تاہم اگر دستخط کرنے کی رضامندی کے حوالے سے ان کے کوئی تحفظات ہیں تو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ مبینہ شخص کی ضمانت کے پیشِ نظر شریف بردران کو رہائی دے دی جائے گی۔ چونکہ انہیں یہ رہائی حکومت کی تحویل سے ملنی تھی اس لیے حکومت اس معاہدے میں دوسری پارٹی ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے جلاوطن رہنما نواز شریف نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی اردو اور حال ہی میں ایک بھارتی ٹی وی چینل کو اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا جلاوطنی کے بارے میں حکومت پاکستان کے ساتھ کو ئی تحریری معاہدہ نہیں ہے البتہ سعودی عرب کی حکومت سے ایک مفاہمت ضرور ہے۔ |
اسی بارے میں شریف خاندان،نیب مقدمے پھرشروع17 August, 2007 | پاکستان ’انحراف کی صورت میں سزا بحال‘17 August, 2007 | پاکستان تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم17 August, 2007 | پاکستان ’بعد از معافی، مقدمہ نہیں کھُل سکتا‘17 August, 2007 | پاکستان حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت16 August, 2007 | پاکستان ’مشرف پیکج کا اعلان کریں‘22 August, 2007 | پاکستان مسلم لیگ کا وردی مخالِف دھڑا19 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||