وہ سیاست سیکھ جاتے تو۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے داخل کردہ وہ کاغذ جس کے تحت شریف خاندان کو دسمبر دو ہزار میں جلاوطن کر دیا گیا تھا دراصل معاہدہ نہیں بلکہ محض ایک حلف نامہ ہے۔ چند سطروں پر محیط اس کاغذ کی تکنیکی حیثیت خواہ کچھ بھی ہو، پاکستان کے لیے یہ معاہدہ یا حلف نامہ دراصل وہ آئینہ ہے جس میں اس کی سیاست کی حقیقی شبیہہ نظر آتی ہے۔ غور سے دیکھیں تو مشرف-شریف معاہدے کے اس آئینے میں پاکستانی سیاست کی کئی مجبوریاں صاف دکھتی ہیں۔ سب سے پہلی تو یہ کہ پاکستان کا کوئی بھی سیاستدان فوجی قیادت کی ناجائز تمناؤں کے سامنے کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔ پاکستان کے اعلٰی فوجی حلقوں میں یہ رائے عام ہے کہ ملک کا ہر بڑا سیاستدان اصل میں فوج کے سائے تلے ہی پروان چڑھا ہے۔ اب تک اس کا جواب سیاستدان یوں دیتے رہے ہیں کہ گو یہ درست ہے کہ زیادہ تر سیاستدانوں نے اپنے کیریئر کا آغاز فوج کے سائے میں کیا لیکن ان کو عوام میں پذیرائی تب ہی حاصل ہوئی جب انہوں نے فوجی قیادت سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا۔ سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے اس دعوے کی مضبوط ترین دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے جب نواز شریف نے انیس سو ترانوے میں اپنی برطرفی کے بعد پی ٹی وی پر آ کر کہا کہ وہ ڈکٹیشن نہیں لیں گے تو اگلے دن ایک ممتاز مقامی اخبار نے یہ شہ سرخی لگائی کہ ’’زندہ ہے بھٹو، زندہ ہے،،۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کا لیڈر وہ نواز شریف نہیں جو جرنیلوں کے کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار میں آیا تھا بلکہ وہ نواز شریف ہے جس نے ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا۔ تاہم دسمبر دو ہزار میں ایک معاہدے کے تحت ملک سے فرار کے بعد نواز شریف نے ثابت کر دیا کہ اب جرنیلوں سے ڈکٹیشن نہ لینے کا زمانہ گیا۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد جمہوریت اور عوام کی حکمرانی کی بات کرنے والے تو بہت ہیں لیکن ان اصولوں کے لیے جان دینے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ مشرف-شریف معاہدے کے آئینے میں پاکستانی سیاست کی دوسری بڑی مجبوری یہ نظر آتی ہے کہ سیاست خواہ دائیں بازو کی ہو یا بائیں کی، مذہبی ہو یا سیکولر، فوج کی منشا کے بغیر اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ ایک ایسے وقت جب شریف برادران کی واپسی سے لے کر اپنے انتخاب تک ہر معاملے پر صدر مشرف گھرے نظر آتے ہیں، بے نظیر بھٹو ہر حال میں ان کی وردی اور کھال دونوں بچانے پر بضد لگتی ہیں۔ اسی آئینے میں تیسرا عکس ان تمام بیرونی قوتوں کا ہے جو پاکستان کی تقدیر پر ہمیشہ حاوی رہی ہیں۔ یہ وہ طاقتیں ہیں جو ہر پاکستانی آمر کے لیے یا تو حرم شریف کے دروازے کھول دیتی ہیں یا اپنے اسلحہ خانوں کے۔ انہیں طاقتوں کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں امتیازی احتساب کا زہر گھولنے والے سیف الرحمٰن ملک بدر ہونے کے بعد کسی خلیجی ریاست کے شاہی خاندان کے مہمان بن جاتے ہیں۔ ملکی عدالتوں سے سزا پانے والے سیاستدان راتوں رات ملک سے نکال لیے جاتے ہیں اور بڑی بڑی ملک گیر جماعتوں کے مقبول رہنما فوجی حکمرانوں کے اقتدار کو دوام دینے کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔ اسی آئینے میں نظر آنے والا چوتھا اور شاید اہم ترین عکس اس ناقابل تردید حقیقت کا ہے کہ پاکستانی جرنیل خواہ ساری عمر سیاست کر لیں وہ کبھی بھی سیاست کو سمجھ نہیں سکتے۔ آخر صدر مشرف کو نواز شریف سے مسئلہ کیا ہے؟ نواز شریف تو کب سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلا چکے۔ ان کو پیش کی جانے والی ڈیل ان سے بیس سال قبل ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے بھی رکھی گئی تھی۔ بھٹو نے اسے ٹھکرایا کہ بظاہر ان کی جان بخشی کی پیشکش ان کی سیاست کے لیے زہر قاتل تھی لیکن نواز شریف نے یہ جام ہنسی خوشی پیا۔ اب پاکستان کی سیاست میں ان کی کیا جگہ ہو سکتی ہے، ان کو زبردستی ملک سے باہر رکھنے کی ضرورت کیا ہے؟ اگر صدر مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں تھوڑی بھی سیاست سیکھی ہوتی تو وہ عدالت کے فیصلے سے بہت پہلے شریف برادران کا سیاسی مستقبل پاکستان کے عوام کے ہاتھ میں دے دیتے۔ اب بھی یہی ہوا اور آنے والے دنوں میں یہ بات صاف ظاہر ہو جائے گی کہ پاکستانی عوام نے شریف برادران کا راتوں رات ملک سے فرار معاف کیا یا نہیں۔ |
اسی بارے میں جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان واپسی کی سماعت 16 اگست کو09 August, 2007 | پاکستان تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم17 August, 2007 | پاکستان ’کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا‘17 August, 2007 | پاکستان ’انحراف کی صورت میں سزا بحال‘17 August, 2007 | پاکستان شریف خاندان،نیب مقدمے پھرشروع17 August, 2007 | پاکستان جلاوطنی معاہدے کی نقل عدالت میں22 August, 2007 | پاکستان دستاویزات کے لیے مزید تین ہفتے22 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||