BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 08:51 GMT 13:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مبینہ ڈِیل، پی پی کے وکلاء کا امتحان

وکلاء کا جلوس
پی پی پی سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے جسٹس چودھری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا تھا
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی بحالی کی تحریک میں بھرپور حصہ لینے والے پیپلز پارٹی کے وکلاء کو بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف میں مبینہ ڈیل کی اطلاعات نے امتحان میں ڈال دیا ہے۔

اس صورت حال میں پیپلز پارٹی کے بعض وکلاءنے’خاموشی‘ کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والےوکلاء بھی پیلز پارٹی کے وکلاء کی ’مشکل‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔

حال ہی میں سپریم کورٹ بار کے صدر منیر ملک نے لاہور بار

سہارے کی تلاش
وکلاءکی تحریک کے بعد جہاں چیف جسٹس عہدے پر بحال ہوئے ہیں وہاں اس تحریک نے جنرل مشرف کو بھی کمزور کیا ہے اور اسی وجہ سے وہ آج سہارے تلاش کررہے ہیں۔
میاں جہانگیر
ایسو سی ایشن کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء بھی وکلاء کے پیلٹ فارم سے ڈیل کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے بقول بعض وکلاء نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں لیکن وکلاء تحریک نہیں چھوڑیں گے۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ)سید زاہد حسین بخاری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور وکلا تحریک کے مقاصد میں کوئی تضاد نہیں ہے۔دونوں ہی ملک میں آمریت کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مبینہ ڈیل کی تصفیلات سامنے آنے پر حتمی طور کچھ کہا جاسکتا ہے ۔ان کے بقول بینادی اصولوں کی خلاف ورزی پر پیپلز پارٹی کے اندر رہ کر جدوجہد کی جاسکتی ہے اس مقصد کے لئے پارٹی کوچھوڑنے کی ضرورت نہیں۔

جسٹس(ر) زاہد حسین بخاری

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی تنظیم پیپلز لائیرز فورم کے سابق صدر میاں جہانگیر کا کہنا ہے کہ وکلاءکی تحریک کے بعد جہاں چیف جسٹس عہدے پر بحال ہوئے ہیں وہاں اس تحریک نے جنرل مشرف کو بھی کمزور کیا ہے اور اسی وجہ سے وہ آج سہارے تلاش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی اقتدار کا انجام ایک تحریک کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ دوبارہ اقتدار پر قبضہ نہ کرسکیں۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پیپلز لائیرز فورم کے سابق سیکرٹری شاہد محمود بھٹی کے مطابق ماضی میں پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کی کوشش کی اور آمریت کی بھر پور مخالفت کی ہے۔اس لئے انہیں یقین ہے کہ پیپلز پارٹی ان قوتوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی جنہوں نے ’ذوالفقار بھٹو کو قتل کیا اور آئین کو پامال کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے تقریباً تیرہ ہزار ارکان ہیں جن میں سے ایک تہائی کا تعلق پی پی پی سے ہے۔

سابق وزیر قانون ایس مسعود
پیپلز لائیرز فورم پنجاب کے سیکرٹری خاور محمود کھٹانہ کا موقف ہے کہ وکلاء کی تحریک فوجی حکمرانی کے مکمل خاتمہ تک جاری رہے گی جبکہ پیپلزپارٹی نےہمیشہ جمہوریت کے قیام کی جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کسی طور بھی فوج کی حکمرانی کو قبول نہیں کریں گی۔

پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل پرویز عنایت ملک کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کوئی ڈیل نہیں کر رہی تاہم سیاست میں مذاکرات کے راستے بند نہیں کئے جاتے ۔ان کے بقول وکلاء تحریک اور پیپلز پارٹی کے اب بھی راستے الگ الگ نہیں ہونگے۔

پارٹی یا وکیل
 اگر کوئی ایسا فیصلہ ہوا جس سے وکلاء تحریک اور پیپلز پارٹی میں اختلاف ہوا تو پارٹی میں اندرونی طور پر ڈیل کی مخالفت کی جاسکتی ہے لیکن بیرونی طور پر سب جماعتی فیصلہ کے ساتھ ہونگے۔
میاں غلام رسول
اس طرح لاہور ہائی کورٹ میں پیپلز لائیرز فورم کے صدر ملک غلام رسول کی رائے ہے کہ بے نظیر بھٹو عوامی لیڈر ہیں اور وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گی جو عوام کے جذبات کے خلاف ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایسا فیصلہ ہوا جس سے وکلاء تحریک اور پیپلز پارٹی میں اختلاف ہوا تو پارٹی میں اندروانی طور پر ڈیل کی مخالفت کی جاسکتی ہے لیکن بیرونی طور پر سب جماعتی فیصلہ کے ساتھ ہونگے۔

پیپلز لائیرز فورم کے سابق صدر میاں جہانگیر
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پیپلز لائیرز فورم کے سابق سیکرٹری عابد ساقی کے مطابق کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ وکلاء تحریک اور پیپلز پارٹی کے راستے الگ الگ ہونگے تاہم پارٹی سے تعلق رکھنے والےوکلاءکسی بڑے فیصلے کی وجہ سے اپنے آپ کو وکلاء برادری سے الگ نہیں رکھ سکیں گے۔

ذوالفقار بھٹو کی کابینہ کے وزیر قانون ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ جب تک معاملات واضح نہیں ہوتے اس وقت کوئی دو ٹوک موقف سامنے آئے گا۔

پیپلز پارٹی کےوکلاء نجی طور پر اعتراف کرتے ہیں کہ مشرف سے ڈیل کی اطلاعات نے ان کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے اور ان کو ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے کسی نے ان کو بڑی سزا سنادی گئی ہو تاہم ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو چھوڑنے والوں کی تعداد دس فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے وکلاء تذبذب کی اس کیفیت سے کیسے چھٹکارا پاتے ہیں اور صف آرائی کی آئندہ نوعیت کیا ہوسکتی شاید اس کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد