BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 August, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رات نہ چڑھے اور وہ واپس آجائے‘

رائے ونڈ روڈ پر شریف خاندان کی آبائی رہائش گاہ
رائے ونڈ میں شریف خاندان کا فارم ہاؤس بنانے کے بعد علاقے کی قسمت سنور گئی تھی
لاہور کے نواح میں رائے ونڈ روڈ پر شریف خاندان کی آبائی رہائش گاہ کے ملازمین نے کہا ہے کہ وہ ان کے گھروں کی آٹھ برس سے اسی طرح دیکھ بھال کر رہے ہیں جیسے ان کی موجودگی میں کیا کرتے تھے۔

معزول اور جلاوطن وزیراعظم میاں نواز شریف کے والد میاں شریف نے رائے ونڈ روڈ پر واقع قصبہ اڈاپلاٹ کے نزدیک فارم ہاؤس بنایا جس میں ان کے اور ان کی اولاد کے الگ الگ مکان ہیں۔

میاں شریف قیام پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے گاؤں جاتی عمرہ سے ہجرت کر کے لاہور آئے تھے۔ انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کی یاد میں رائے ونڈ فارم کے علاقے کا نام جاتی عمرہ رکھ دیا۔ اب اسی رائے ونڈ فارم میں وہ دفن ہیں۔

میاں شریف اکتوبر سنہ دوہزار چار میں اپنی جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں انتقال کر گئے تھے اور وصیت کے مطابق ان کی میت پاکستان منتقل کر دی گئی تھی۔ ان کی قبر کی دیکھ بھال پر مامور غلام رسول نے تو کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کر دیا البتہ رائے ونڈ فارم کے منیجر ادریس بٹ نے کہا کہ ’ملازم اپنے معمول کے مطابق روزانہ گھروں کی صفائی کرتے ہیں اور ان گھروں کو آج بھی ویسا ہی رکھا گیا ہے جیسا وہ چھوڑ کرگئے تھے‘۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’ہم نے کوئی فرق نہیں آنے دیا‘۔ ادریس بٹ کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس فارم کے مالکوں نے انہیں کوئی خاص انتظامات کرنے کی ہدایات جاری نہیں کی ہیں لیکن جب بھی ہدایات ملیں تو اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔

ہوسکتا ہے کہ رائے ونڈ فارم کے ملازمین کو کچھ نئے انتـظامات کرنے پڑیں گے کیونکہ یہ فارم میاں شریف کے بچوں کی مستقل رہائش گاہ کبھی بھی نہیں رہی۔

اس فارم میں تینوں بھائیوں میاں نواز شریف ،شہباز شریف اور عباس شریف کے مکان ہیں لیکن وہ صرف جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے آتے تھے اور ویک اینڈ یعنی اتوار اس فارم میں اپنے والدین کے ساتھ گزارا کرتے تھے۔

میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی مستقل رہائش ماڈل ٹاؤن کے ایچ بلاک میں ایک سو اسی /اکیاسی نمبر کی کوٹھی میں تھی۔ اس مکان کوان کی جلاوطنی کے بعد حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بنگلے شریف خاندان نے اپنے ذمے قرضوں کے بدلے قومی احتساب بیورو کے حوالے کیے تھے۔

 آٹھ برس میں تمام تر کوششوں کے باوجود موجودہ حکمران شریف خاندان کی اپنے آبائی شہر لاہور پر سیاسی گرفت کمزور نہیں کرپائے
سیاسی مبصرین

ان وسیع و عریض بنگلوں کو صوبہ پنجاب کے محکمۂ سماجی بہبود کی تحویل میں دے دیا گیا جس نے وہاں ایک یتیم خانہ، معمر افراد کی ایک پناہ گاہ اور بے گھر خواتین کے لیے ایک ووکیشنل ٹریننگ سنٹر قائم کر دیا تھا۔

یہ ادارے آج بھی وہیں کام کر رہے ہیں اور سرکاری کاموں کی سست روی اور روایتی عدم دلچسپی کا شکار ہیں۔

یہ وہی بنگلے ہیں جہاں کبھی وزیر اعظم رہائش پزیر تھے اور ہر ہفتے کھلی کچہری لگا کرتی تھی اور ہزاروں افراد اپنے مسائل کے حل کے لیے درخواستیں پیش کیا کرتے تھے۔

آٹھ برس کے بعد آج اس کے سونے پن کا یہ عالم تھا کہ سہہ پہر چار بجے استقبالیہ بند کر کے تالہ لگا دیا گیا تھا اور مرکزی دروازے پر دیر تک دستک دینے کے باوجود کوئی باہر نہیں آیا۔

شریف خاندان سے قبضہ لینے کے بعد حکومت نے ان بنگلوں کو بیچنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے ان کا کوئی خریدار نہیں ملا تھا۔

ابھی یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ شریف خاندان لوٹے گا تو کیا اپنے والد کے ماڈل ٹاؤن کے مکان کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کرے گا البتہ یہ طے ہے کہ لاہور میں ان کا ابتدائی قیام سینکڑوں ایکٹر پر پھیلے رائے ونڈ فارم میں ہوگا۔

شریف خاندان کے اس علاقے میں فارم ہاؤس بنانے کے بعد اس علاقے کی قسمت سنور گئی تھی اور خاصے ترقیاتی کام ہوئے۔ اسی وجہ سے علاقے کے لوگ آج بھی انہیں یاد کرتے ہیں۔

اڈاپلاٹ کے رہائشی بابا لعل دین کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف ایک اچھا آدمی ہے میں تو کہتا ہوں کہ رات نہ چڑھے اور وہ واپس آجائے‘۔

نواز شریف کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ
نواز شریف کے بنگلوں کو صوبہ پنجاب کے محکمۂ سماجی بہبود کی تحویل میں دے دیا گیا

اس مقام پر بنوں سےتعلق رکھنے والا ایک ٹرک ڈرائیور ملا جس نے کہا کہ جب نواز شریف باہرگئے تو ڈیزل دس روپے لٹر تھا اور میں ٹرک کا مالک ڈرائیور تھا آج ڈیزل تین چار گنا مہنگا ہوچکا ہے اور میرا ٹرک فروخت ہوچکا اور اب میں ٹرک پر ملازم ڈرائیور ہوں۔

میاں نواز شریف کی واپسی کے فیصلے کے بعد یوں ملک بھر میں مسلم لیگی کارکن ان کی واپسی کے منتظر ہیں لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ لاہور کے ورکر خاص طور پر ان کا انتظار کر رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آٹھ برس میں تمام تر کوششوں کے باوجود موجودہ حکمران شریف خاندان کی اپنے آبائی شہر لاہور پر سیاسی گرفت کمزور نہیں کرپائے۔

میاں نواز شریف کے ترجمان زعیم قادری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ میاں نواز شریف کے استقبال کی فل ڈریس ریہرسل میں جاوید ہاشمی کے رہائی کے موقع پراور پھر ان کے جلوس کی شکل میں ہو چکی ہے۔ اب ان کی واپسی پر جو شاندار استقبال ہوگا وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

میاں شہباز شریف کے پاکستان میں موجود صاحبزادے حمزہ شریف نے ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد اور تایا کی واپسی اب مہینوں نہیں بلکہ ہفتوں کی بات ہے اور لندن میں پارٹی کے اجلاس میں ان کی واپسی کی تاریخ طے کی جائے گی۔

مسلم لیگی رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دوبارہ انتخاب سے پہلے ان کے قائدین کو پاکستان میں ہونا چاہیے۔

نواز شریف’فوج سے ڈیل نہیں‘
ہمیں شوکت عزیز بننا قبول نہیں ہے: نواز شریف
جلاوطنی کے معاہدے کا عکستصاویر میں
نواز شریف اور حکومت کے معاہدے کا عکس
نواز شریف: ٹائم لائنتصاویر میں
نواز شریف: ٹائم لائن
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد