’صوبائی اسمبلی کے بغیر،صدرکاانتخاب‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک قیوم کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب کسی اسمبلی کی عدم موجودگی میں بھی ہوسکتا ہے لیکن قومی اسمبلی لازمی ہے۔ جمعرات کو صدارتی انتخاب کے طریقہ کار کے حوالے سے بی بی سی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ملک قیوم نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے لیے حلقہ انتخاب سینیٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے لیکن اگر کسی ایک صوبے کی اسمبلی نہ ہو تو اس کا صدارتی انتخاب کے انعقاد پر اثر نہیں پڑے گا۔ یعنی صوبائی اسمبلی کے نہ ہونے کے باوجود صدارتی انتخاب منعقد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’صدارتی انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا ہونا ضروری ہے‘۔ اسی طرح ان کے بقول اگر کسی سیاسی جماعت کے ارکانِ اسمبلی صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کر دیں یا بطورِ احتجاج اسمبلی سے استعفیٰ دے دیں تو تب بھی صدارتی انتخاب منعقد ہو نگے۔ انہوں نے کہا کہ ’اسمبلی میں نشستوں کا خالی ہونا یا کچھ ارکان کا مستعفی ہونا بھی صدارتی انتخاب کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس سے صدارتی انتخاب کے انعقاد پر فرق پڑے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں میں نشستیں خالی ہوتی رہتی ہیں ، کبھی کوئی رکنِ اسمبلی صحت کی خرابی کے وجہ سے اسمبلی میں وقتاٌ فوقتاٌ ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہیں لے سکتا تو کبھی کوئی رکن کسی دوسری وجہ سے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیتا ہے۔ گوکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان صدارتی انتخاب میں ووٹ کے حقدار ہوتے ہیں اور آئین کی روشنی میں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ووٹ مساوی ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ’گو کہ پنجاب کی اسمبلی کے ارکان کی تعداد تین سو سے زائد ہے لیکن اگر صوبہ بلوچستان کے ارکان کی تعداد ایک سو ہے تو اس صورت میں پنجاب اسمبلی کے تین ارکان کے ووٹ بلوچستان اسمبلی کے ایک ووٹ کے برابر ہونگے‘۔ پندرہ نومبر دو ہزار سات کو صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودہ پانچ سالہ مدتِ صدارت پوری ہو نے کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر آئین کی روشنی میں پندرہ
کسی امیدوار کے کاغذاتِ نامزدگی کے خلاف مدِ مقابل کی جانب سے اعتراض کی صورت میں چیف الیکشن کمشنر بحیثیتِ ریٹرننگ آفیسر اعتراض کے حق میں یا اس کے خلاف فیصلہ دیں گے جس کے خلاف ہائی کورٹ اور پھر بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ صدارتی انتخاب میں تین امیدواروں کے مدِ مقابل ہونے کی صورت میں، اٹارنی جنرل کے بقول، جیتنے والے امیدوار کو باقی دونوں امیدواروں کو پڑنے والے کُل ووٹوں سے زیادہ ووٹ لینے ہونگے۔ بصورتِ دیگر انتخاب دوبارہ کرانا پڑتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کے خلاف کوئی امیدوار ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کرے تو کیا اس صورت میں صدارتی انتخاب تعطل کا شکار ہوسکتا ہے؟ تو اٹارنی جنرل نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر رفیق تارڑ نے اپنے کاغذاتِ نامذگی مسترد کیے جانے کے بعد جب اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر عبدالقدیر چودھری کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ اور پھر بعد میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو اعلیٰ عدالتوں نے ان کی درخواستوں کو صدارتی انتخاب کی طے شدہ تاریخ سے پہلے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے نمٹا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کی صورت میں صدارتی انتخاب تعطل کا شکار نہیں ہوتے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||