شریف برادران، اخبارات کا ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی ملک واپسی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے اپنی شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے۔ اخبار ’روزنامہ جنگ‘ کی سرخی ہے ’نواز شہباز وطن آسکتے ہیں، حکومت رکاوٹ نہ ڈالے سپریم کورٹ۔‘ اسی خبر کو ’روزنامہ نوائے وقت‘ نے اس انداز میں شائع کی ہے کہ شریف برادران وطن آکر سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں سپریم کورٹ۔ یاایک اور قومی اخبار ’روزنامہ ایکسپریس‘ کہتا ہے: ’حکومت ہارگئی، شریف جیت گئے۔‘ بعض قومی اخبارات نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خصوصی ایڈیشن بھی شائع کیے ہیں۔ روزنامہ جنگ نے فیصلہ پر حکومتی ردعمل کو اپنے اخبار کی سپر لیڈ کے طور پر شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا، سرکاری ترجمان۔ روزنامہ نوائے وقت نے حکومتی درعمل کو صفحۂ اول پر دو کالمی خبر کا موضوع بنایا ہے۔ نوائے وقت نے شریف برادران کے بیانات کو سپر لیڈ جبکہ روزنامہ ایکسپریس نے شریف برادران کے بیانات اور سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مسلم لیگ کے کارکنوں کے جشن کو بھی سپر لیڈ کا حصہ بنایا ہے۔ جنگ نے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی کا بیان بھی شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا: ’فیصلہ نہیں مانتا عدلیہ پارٹی بن گئی، مجھ پر توہین عدالت لگانی ہے تو لگائے۔‘ انگریزی روزنانہ ڈان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اس شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے: ’حالات کا رخ بدل گیا۔‘ اخبار نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے اس بیان کو پہلے صحفہ پر نمایاں جگہ دی ہے جس میں بے نظیر بھٹو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہا ہے۔ اخبار نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ساتھ ہی صدر جنرل پرویز مشرف کے سیاسی مفاہمت کے حوالے سے بیان کو دو کالم لگایا ہے۔ انگریزی اخبار نیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو شریف برادران کے تصاویر کے ساتھ سات کالم شائع کیا ہے۔ اخبار کی سرخی ہے کہ شریف براردران واپس آسکتے ہیں۔
اخبار دی نیوز نے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی کے فیصلے کی خبر کے ساتھ ایک تصویر شامل کی ہے جس میں کارکن جشن منا رہے ہیں۔ دی نیوز میں نواز شریف کے اس کو بیان بھی شائع کیا گیا ہے جس میں نواز شریف نے کہا کہ وہ صدر مشرف کے ساتھ اس شرط پر بیٹھنے کو تیار ہیں اگر وہ کسی حکومتی عہدے کے امیدوار نہ ہوں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نوائے وقت نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’بہر صورت اب شریف برادران کو بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی روشنی میں حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیے اور کسی مصلحت سے کام لینے اور قید بند کی صعوبتوں سے گھبرانے کے بجائے ملک میں رہ کر ہی قوم کی قیادت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔‘ ڈیلی ٹائمز کا اداریہ یوں ہے کہ عدالتی فیصلہ جنرل مشرف کے خلاف جاتا ہے لیکن یہ اب نواز شریف پر منحصر ہے کہ انہوں نے یہ طے کرنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی حمایت میں جائے گا یا ان کی مخالفت میں۔ |
اسی بارے میں ’رات نہ چڑھے اور وہ واپس آجائے‘23 August, 2007 | پاکستان شریف برادران پر مقدمات کی حیثیت23 August, 2007 | پاکستان ’نواز، شہباز شریف وطن واپس آسکتے ہیں‘23 August, 2007 | پاکستان ’اب مارشل لاء نہیں آئے گا‘23 August, 2007 | پاکستان ’نواز، شہباز اب فوراً وطن پہنچیں‘24 August, 2007 | پاکستان واپسی پر غور، پارٹی کا اجلاس24 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||