BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریف برادران، اخبارات کا ردعمل

عدالت کا فیصلہ تمام اخباروں کی سرخیوں میں تھا
پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی ملک واپسی پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان کے تمام اخبارات نے اپنی شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے۔

اخبار ’روزنامہ جنگ‘ کی سرخی ہے ’نواز شہباز وطن آسکتے ہیں، حکومت رکاوٹ نہ ڈالے سپریم کورٹ۔‘ اسی خبر کو ’روزنامہ نوائے وقت‘ نے اس انداز میں شائع کی ہے کہ شریف برادران وطن آکر سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں سپریم کورٹ۔

یاایک اور قومی اخبار ’روزنامہ ایکسپریس‘ کہتا ہے: ’حکومت ہارگئی، شریف جیت گئے۔‘ بعض قومی اخبارات نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خصوصی ایڈیشن بھی شائع کیے ہیں۔

روزنامہ جنگ نے فیصلہ پر حکومتی ردعمل کو اپنے اخبار کی سپر لیڈ کے طور پر شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا، سرکاری ترجمان۔ روزنامہ نوائے وقت نے حکومتی درعمل کو صفحۂ اول پر دو کالمی خبر کا موضوع بنایا ہے۔

 صورت اب شریف برادران کو بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی روشنی میں حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیے اور کسی مصلحت سے کام لینے اور قید بند کی صعوبتوں سے گھبرانے کے بجائے ملک میں رہ کر ہی قوم کی قیادت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔
نوائے وقت

نوائے وقت نے شریف برادران کے بیانات کو سپر لیڈ جبکہ روزنامہ ایکسپریس نے شریف برادران کے بیانات اور سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مسلم لیگ کے کارکنوں کے جشن کو بھی سپر لیڈ کا حصہ بنایا ہے۔

جنگ نے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی کا بیان بھی شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا: ’فیصلہ نہیں مانتا عدلیہ پارٹی بن گئی، مجھ پر توہین عدالت لگانی ہے تو لگائے۔‘

انگریزی روزنانہ ڈان نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اس شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے: ’حالات کا رخ بدل گیا۔‘ اخبار نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے اس بیان کو پہلے صحفہ پر نمایاں جگہ دی ہے جس میں بے نظیر بھٹو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو سراہا ہے۔

اخبار نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ساتھ ہی صدر جنرل پرویز مشرف کے سیاسی مفاہمت کے حوالے سے بیان کو دو کالم لگایا ہے۔ انگریزی اخبار نیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو شریف برادران کے تصاویر کے ساتھ سات کالم شائع کیا ہے۔ اخبار کی سرخی ہے کہ شریف براردران واپس آسکتے ہیں۔

نواز شریف کو طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی جا چکی ہے
ایک اور انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز نے شریف برادران کی واپسی کے بارے میں عدالتی فیصلے کی خبر کے ساتھ ایک بڑی تصویر بھی شائع کی ہے جس میں ایک مسلم لیگی کارکن کو وکٹری کا نشان بناتے دکھایا گیا ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے صفحۂ اول پر ایک خبر ہے جس میں اس امکان کا اظہار کیا گیا ہے کہ شریف برادران نومبر سے قبل واپس نہیں آسکتے ہیں۔

اخبار دی نیوز نے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کی واپسی کے فیصلے کی خبر کے ساتھ ایک تصویر شامل کی ہے جس میں کارکن جشن منا رہے ہیں۔ دی نیوز میں نواز شریف کے اس کو بیان بھی شائع کیا گیا ہے جس میں نواز شریف نے کہا کہ وہ صدر مشرف کے ساتھ اس شرط پر بیٹھنے کو تیار ہیں اگر وہ کسی حکومتی عہدے کے امیدوار نہ ہوں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر نوائے وقت نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ ’بہر صورت اب شریف برادران کو بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی روشنی میں حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیے اور کسی مصلحت سے کام لینے اور قید بند کی صعوبتوں سے گھبرانے کے بجائے ملک میں رہ کر ہی قوم کی قیادت کو اپنا شعار بنانا چاہیے۔‘

ڈیلی ٹائمز کا اداریہ یوں ہے کہ عدالتی فیصلہ جنرل مشرف کے خلاف جاتا ہے لیکن یہ اب نواز شریف پر منحصر ہے کہ انہوں نے یہ طے کرنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی حمایت میں جائے گا یا ان کی مخالفت میں۔

شاعرہ فہمیدہ ریاضپاکستانی جلاوطن
عدلیہ کی آزادی، جلاوطنی کا کرب اور مکافات عمل
سیاست اور جرنیلی
’ وہ سیاست سیکھ جاتے تو یہ نہ کرتے‘
شریف خاندان کا رائے ونڈ فارمواپسی کا انتظار
’رات نہ چڑھے اور وہ واپس آجائے‘
ایک پوسٹرپہلے شہبازشریف
سپریم کورٹ کا فیصلہ، جاوید سومرو کا تجزیہ
سپریم کورٹ سےباہرلیگیوں کا جشن
کارکنان، رہنما، بکرے اور پیغامات
 مسلم لیگی خوشیاں مسلم لیگی جشن
عدالتی فیصلہ: خوشیاں، جشن، مٹھائیاں
کون پہلے لوٹے گا
واپسی کے فوائد اور نقصانات پرغور
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد