’اب مارشل لاء نہیں آئے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کی طرف سے ان کی درخواست پر ان کی حمایت میں فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں جمہوریت کی جیت ہے، پاکستانی عوام کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ مشرف صاحب کے آٹھ سالہ ظالمانہ دور کی شکست ہے۔ یہ ایک جابرانے فوجی حکومت کی شکست ہے۔‘ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ ’ہمارا راستہ اب صاف ہو گیا ہے اور مسلم لیگ ن اور اے پی ڈی ایم کی دوسری پارٹیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی ملک جانے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔‘
ان سے جب اے آر ڈی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اے آر ڈی تو ہے ہی نہیں۔ اس کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ جو بھی ہوگا اے پی ڈی ایم کے تحت ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ بینظیر نے اپنا راستہ علیحدہ کر دیا ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ پاکستان لوٹنے پر جیل جانے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واپسی کا پروگرام پارٹی کے فیصلے کے مطابق اور اتحادیوں سے بات چیت کے بعد طے ہوگا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مشرف دور کے خاتمے کی شروعات ہیں‘۔ ان کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے وطن واپسی کے لیے نواز شریف کے بیان کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جونہی پارٹی کے لوگ فیصلے کے سلسلے میں خوشی، نوافل اور شکرانے سے فارغ ہوتے ہیں پارٹی کا اجلاس بلایا جائے گا اور وطن واپسی کا بلا تاخیر فیصلہ کیا جائے گا۔ نواز شریف اور خود پر مقدمات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف یا ان کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے۔ تاہم قومی احتساب بیورو، نیب کے مقدمات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’ان مقدمات کا ڈٹ مقابلہ کریں گے‘۔ بینظیر سے رابطوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں یہ غلطی ہوتی رہی ہے کہ سماجی مراسم تک نہیں رہے لیکن اب ان سے رابطہ ہے اور اب ماضی کی غلطیوں کو دہرائیں گے نہیں۔
نواز شریف کے وکیل (جسٹس) فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ چیف صاحب نے بہت واضح طور پر کہا ہے کہ انہیں (شریف برادران) آنے دیں گے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ جہاں تک کیسز ہیں تو کوئی بھی کیسز کو روک نہیں سکتا لیکن میں ایک بتا دوں کہ یہ سیاسی مقدمات ہوتے، ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اب نئے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اب مارشل لاء نہیں آئے گا۔ اب ایمرجنسی نہیں آئے گی اور صدر صاحب جو الیکشن لڑ رہے ہیں اس میں بھیں ان کے لیے کچھ مشکلات ہوں گی۔ |
اسی بارے میں وطن واپسی، سپریم کورٹ سے رجوع02 August, 2007 | پاکستان وہ سیاست سیکھ جاتے تو۔۔23 August, 2007 | پاکستان ’نواز، شہباز وطن واپس آسکتے ہیں‘23 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||