شریف برادران کو واپسی کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شریف برادران کی آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے قرار دیا ہے کہ دونوں بھائی بغیر کسی رکاوٹ کے وطن واپس آ سکتے ہیں۔ سات رکنی لارجر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف پاکستان کے شہری ہیں اور آئین کی آرٹیکل پندرہ کے تحت ان کو وطن واپس آنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں وفاقی حکومت، چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ شریف برادران کی وطن واپسی میں کسی بھی نوعیت کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل کی سماعت مکمل کی اور عدالت نے اپنا مختصر فیصلہ پاکستانی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے سنایا۔ بینچ کے سامنے حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم اور وفاق کے دو وکلاء بیرسٹر احمد رضا قصوری اور راجہ ابراہیم ستی نے دلائل دیئے۔ شریف خاندان کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے آئینی درخواست کی حمایت میں دلائل دیئے۔
درخواست گزار کے وکیل فخرالدین جی ابراہیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انیس سو تہتر کے آئین کے تحت ان کے موکل کو یہ حق حاصل ہے کہ ملک میں آسکتے ہیں اور ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ پندرہ کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک میں واپس آ کر آزادی سے گھوم سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ کسی شخص کو زبردستی باہر بھیجے۔ اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے اپنے دلائل میں آئینی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق دلائل دینے کی بجائے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کو ان آئینی درخواستوں کی سماعت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ اس کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کا معاملہ دو فریقوں کے درمیان طے پانے والا ایک معاملہ ہے جس میں ایک دوست ملک بھی شریک ہے۔ سماعت کے دوران صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل صاحبان نے بھی دلائل دیئے۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے آئینی درخواست کی مخالفت کی جبکہ سرحد کے ایڈووکیٹ جنرل نے اس کی حمایت میں دلائل دیئے۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکن سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گئے۔
سماعت کے دوران وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی سے ملک سے باہر گئے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدر مشرف کی کتاب ’ان دا لائن آف فائر‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں لکھا گیا ہے کہ سابق وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف ملک سے نہیں جانا چاہتے تھے۔ عدالت نے صدر مشرف کی کتاب احمد رضا قصوری کے حوالے کی اور انہیں متعلقہ صفحات پڑھنے کو کہا اور ان کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔ عدالت کے استفسار پر احمد رضا قصوری نے بتایا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی واپسی سے متعلق کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے تو وہ وطن واپس آ سکتے ہیں۔ وفاق کے دوسرے وکیل راجہ ابراہیم ستی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے سے ملک میں ایمرجنسی لاگو ہے۔ اس پر عدالت نے ابراہیم ستی سے کہا کہ وہ ذرا سوچ کر بیان دیں کیونکہ ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے دوررس نتائج ہو سکتے ہیں۔
عدالت کے پوچھنے پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے ایمرجنسی سے متعلق بیان کی وضاحت کے لیے بیس منٹ کی مہلت مانگی جس پر عدالت کی کارروائی بیس منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپنی عدالت میں واپسی پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق بحال ہیں اور کوئی ایمرجنسی نہیں۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ عدالت اس آئینی پٹیشن کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ چند روز بعد لارجر بینچ کے کچھ جج صاحبان تعطیلات کی وجہ سے دستیاب نہ ہوں۔ اس سے قبل صبح کی کارروائی کے دوران سات رکنی بینچ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے عدالت میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات معاہدہ کی ذیل میں نہیں آتیں اور انہیں صرف عہد نامہ کہا جا سکتا ہے۔ پٹیشنوں کے خلاف دلائل دیتے ہوئے وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان کی طرف سے دائر کی جانے والی پٹیشنیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک دوست ملک سے شریف خاندان کے معاہدوں کی اصل کاپیاں حاصل کرنے کے لیے مزید تین ہفتوں کی مہلت مانگی جس پر عدالت نے کہا کہ اگر انہی دستاویز کی اصل کاپیاں لانی ہیں تو اس ضمن میں اس کی سماعت ملتوی نہیں کی جا سکتی۔
جسٹس سردار رضا خان نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آیا اُس ملک نے کسی دوسرے لیڈر کو چھوڑنے کے بارے میں پاکستان کی حکومت کو کہا تھا جس پر احمد رضا قصوری نے کہاکہ یہ بات اس کے علم میں نہیں۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے فیڈریشن کے وکیل احمد رضا قصوری سے اسفسار کیاکہ قانون میں کوئی ایسی شق موجود ہے جس میں یہ ثابت ہوتا ہو کہ کسی پاکستانی کو زبردستی دوسرے ملک بھیجا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی او کے تحت ایک شحض کو ملک کے ایک حصے سے دوسرے میں جانے پر تو پابندی عائد کی جا سکتی ہے لیکن اس کو زبردستی باہر نہیں بھیجا جا سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک قیدی کو ایک جیل سے دوسری جیل میں بھیجا جا سکتا ہے لیکن اُسے زبردستی ملک سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا۔ احمد رضا قصوری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو عدالت نے طیارہ سازش کیس میں عمر قید کی سزا دی ہے جبکہ اسے ہیلی کاپٹر کیس میں اُسے چودہ سال قید کی سزا سنائی ہے اور صدر نے انکی سزا میں رعائت کی ہے لیکن ان کی سزا معاف نہیں ہوئی۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس سردارمحمد رضا خان نے کہا کہ ان دستاویزات کو معاہدے نہ کہا جائے کیونکہ ان پر صرف ایک فریق کے دستخط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کو زیادہ سے زیادہ عہد نامے کہا جا سکتا ہے۔ شریف خاندان کی جلاوطنی سے متعلق پٹیشنوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں جبکہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس راجہ فیاض احمد بینچ کے دیگر ارکان ہیں۔ |
اسی بارے میں حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت16 August, 2007 | پاکستان ’انحراف کی صورت میں سزا بحال‘17 August, 2007 | پاکستان ’کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا‘17 August, 2007 | پاکستان ’بعد از معافی، مقدمہ نہیں کھُل سکتا‘17 August, 2007 | پاکستان شریف خاندان،نیب مقدمے پھرشروع17 August, 2007 | پاکستان جلاوطنی معاہدے کی نقل عدالت میں22 August, 2007 | پاکستان دستاویزات کے لیے مزید تین ہفتے22 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||