BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہلے شہباز جائیں گے‘

کاغذ کا ٹکڑا
News image
 درخواست پر سنایا جانے والہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اس کی خالصتاً وجہ یہ ہے کہ حکومت کاغذ کے جس ٹکڑے کو اپنے حق میں پیش کر رہی تھی، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کا سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی درخواست پر سنایا جانے والہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اس کی خالصتاً وجہ یہ ہے کہ حکومت کاغذ کے جس ٹکڑے کو اپنے حق میں پیش کر رہی تھی، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ دوسرا یہ کہ میاں شہباز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سپریم کورٹ اسی نوعیت کا ایک فیصلہ پہلے بھی سنا چکی ہے۔ سرکاری موقف کی کمزور آئنی اور قانونی حیثیت کا تو ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد سمیت متعدد سرکاری افراد پہلے ہی اظہار کر چکے ہیں۔

اس لئے سوال یہ نہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ملک کی سیاست پر کیا ثرات مرتب ہوں گے بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا شریف برادران اس فیصلے کے بعد اب اتنی ہمت کا مظاہرہ کریں گے کہ پاکستان واپس چلے جائیں؟ مبصرین اس سوال کے جواب پر بٹے ہوئے ہیں۔


بعض کا خیال ہے کے اگر شریف بردران اتنے ہی باہمت ہوتے توسن دو ہزار میں جنرل مشرف کا طیارہ اغوا کرانے اور دیگر الزامات کے نتیجے میں ہونے والی سزائے قید سے بچنے کے لئے ملک چھوڑکر چلے جانے اور سیاست نہ کرنے پر آمادہ نہ ہوتے اور فوجی آمریت کے خلاف لڑنے کو ترجیح دیتے۔

مجھے یاد ہے جب میں نے جدہ کے سرور محل میں اس وقت رہائش پذیر میاں نوازشریف سے پہلا آن ریکارڈ انٹرویو کیا تھا اور ان سے پوچھا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر یہاں آسائش کی زندگی گزرنے پر کیا رائے رکھتے ہیں تو انہوں نے برملا اعتراف کیا تھا کہ سعودی عرب میں ان کی آزادی کا پروانہ ایک نعمت تھا۔ گو کہ وہ آج تک یہ بیانات دے رہے ہیں کہ وہ قید سے نہیں ڈرتے، لیکن سوال پوچھنے والے بھی حق بجانب ہوں گے کہ اگر ایسا تھا تو پھر وہ جیل کی صعوبت سے نکلنے کے لئے سعودی پلان پر کیوں رضامند ہوئے تھے؟

پہلے شہباز شریف
News image
 عدالت کے فیصلے کی روشنی میں، صورتحال کو جانچنے اور حکومت کے ممکنہ ردعمل کا اندازہ لگانے کے لئے، ابتدائی طور پر میاں شہباز شریف کو پاکستان بھیجا جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کے خلاف کوئی سزا سنائی نہیں گئی تھی۔
نواز شریف کے قریبی ذرائع

لیکن تجزیہ نگاروں کا ایک پرامید حلقہ یہ رائے رکھتا ہے کہ اس وقت جنرل پرویز مشرف اپنے دور اقتدار کے کمزور ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت انتہائی کم ہوگئی ہے، ان پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے کہ اپنے اقتدار کو جائز قانونی حیثیت دلانے کے لئے معتدل سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل کریں، فوج کی روایتی حلیف مذہبی جماعتیں ان کی کھلم کھلا حمایت کرنے سے کترا رہی ہیں اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو اپنی آزادی اور اس کے نتیجے میں ملنے والی عزت سے مزا آنے لگا ہے، اور وہ یکے بعد دیگرے منصفانہ اور قانون و آئین کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔ ایسی صورت میں یہی وہ وقت ہے جب شریف برادران ملک واپس جاسکتے ہیں اور ان کو عدالتوں سے انصاف کی امید بھی ہوسکتی ہے۔

میاں نواز شریف کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں، صورتحال کو جانچنے اور حکومت کے ممکنہ ردعمل کا اندازہ لگانے کے لئے، ابتدائی طور پر میاں شہباز شریف کو پاکستان بھیجا جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شہباز شریف کے خلاف کوئی سزا سنائی نہیں گئی تھی اس لئے انہیں فوری طور پر جیل میں نہیں ڈالا جاسکتا لیکن انہیں یہ خوف بھی ہے کہ اس سے پہلے کہ شہباز شریف پاکستان واپس پہنچیں، ان کے خلاف کئی مقدمات بنائے جاسکتے ہیں۔

پاکستانی حکام نے شریف برادران کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کے فوراً بعد، بڑی چابکدستی سے ان کے خلاف بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات دوبارہ کھولنا شروع کردئے ہیں۔ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان مقدمات میں حکومت شریف خاندان کے افراد کو گرفتار کرلے۔ ہوسکتا ہے کہ بعد ازاں وہ مقدمات عدالتوں میں ثابت نہ ہوسکیں لیکن اس میں کئی برس لگ سکتے ہیں جیسا کہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کے مقدمات میں ہوچکا ہے۔
مسلم لیگ کے ذرائع کہتے ہیں کہ اگر شہباز شریف کے پاکستان جانے میں رکاوٹ نہیں ڈالی جاتی تو پھر ایک طرف وہ سیاسی سرگرمیاں شروع کریں گے تو دوسری جانب وہ عدالت سے میاں نواز شریف کے خلاف سنائی جانے والی سزاؤں کو ختم کرانے کے لئے ایک مرتبہ پھر اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے۔

دھچکے کا خطرہ
News image
 اگر اب بھی شریف برادران وطن واپس جانے سے کنی کتراتے ہیں تو ان کی سیاسی حمایت کو شدید دھچکا لگے گا اور لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ان کی سیاست نعرے بازی تک محدود ہے۔

بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ چونکہ نوازشریف کو جو سزا سنائی گئی تھی اس میں ان کو معافی دی جاچکی ہے اس لئے اس سزا پر عملدرآد نہیں ہوسکتا۔ لیکن حکومت کہتی ہے کہ چونکہ میاں نواز شریف کی معافی مشروط تھی اس لئے اس لئے سزا پر عمل ہوا۔

عدالتی جنگ کے نتائج جو بھی سامنے آئیں، دو باتیں بالکل واضح ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اب بھی شریف برادران وطن واپس جانے سے کنی کتراتے ہیں تو ان کی سیاسی حمایت کو شدید دھچکا لگے گا اور لوگ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ ان کی سیاست نعرےبازی تک محدود ہے۔ دوسری بات یہ کہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کی بنیادیں انتہائی کمزور ہورہی ہیں اور انہیں وردی سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔

معاہدے میں کیا ہے؟
جلاوطنی کے معاہدے کے متن کی تلخیص
جلاوطنی کے معاہدے کا عکستصاویر میں
نواز شریف اور حکومت کے معاہدے کا عکس
شہباز شریفمعاہدہ سے انکار نہیں
’بندوق کے زور پر کروائی گئی چیز کی کیا حیثیت‘
نواز شریف: ٹائم لائنتصاویر میں
نواز شریف: ٹائم لائن
شریف خاندان کا رائے ونڈ فارمواپسی کا انتظار
’رات نہ چڑھے اور وہ واپس آجائے‘
سپریم کورٹ سےباہرلیگیوں کا جشن
کارکنان، رہنما، بکرے اور پیغامات
 مسلم لیگی خوشیاں مسلم لیگی جشن
عدالتی فیصلہ: خوشیاں، جشن، مٹھائیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد