احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | بزرگ سیاستدان اجمل خٹک ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے |
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کا بغیر کسی رکاوٹ کے وطن واپس آنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ ان میں بعض ایسی شخصیات بھی شامل ہیں جو خود بھی جلا وطنی کے کرب سے گزر چکی ہیں۔ بزرگ سیاستدان اجمل خٹک ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور افغانستان میں سولہ سال جلاوطن رہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کی واضح دلیل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی واپسی کا راستہ ہموار ہوگیا ہے اور اب بےنظیر بھٹو اور الطاف حسین کو بھی وطن واپسی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ جلاوطنی میں زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’جلاوطنی میں جتنا بھی آرام ہو لیکن سکون نہیں ہوتا ۔۔۔ اور پھر وہ لوگ جو ملک و قوم کی خاطر یہ مصیبت برداشت کرتے ہیں انہیں اپنے وطن سے دور ہونے ہونے کا اور بھی زیادہ دکھ ہوتا ہے ۔۔۔ اگر ملک کے حالات ٹھیک نہ ہوں تو پریشانی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔‘  | | | جلاوطنی جن لوگوں نے گزاری ہے انہیں پتہ ہے کہ یہ کتنی بڑی اذیت اور سزا ہے |
خود کو شیرِ پنجاب کہلانے والے غلام مصطفٰی کھر کو جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاء کے فوراً بعد جلاوطن ہونا پڑا اور دس سال تک ملک سے باہر رہے۔ ان کا کہنا تھا ’جلاوطنی جن لوگوں نے گزاری ہے انہیں پتہ ہے کہ یہ کتنی بڑی اذیت اور سزا ہے ۔۔۔ مجھے آج اتنی ہی خوشی ہے جتنی اس وقت ہوئی تھی جب میں جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آیا تھا تو مجھے ہوئی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے ملک و قوم کے لیے دور رس نتائج نکلیں گے۔ ’ملکی تاریخ میں پہلی بار امید کی کرن نظر آئی ہے کہ اب ملک میں انصاف ہوگا اور کوئی فرد واحد من مانی نہیں کر سکتا۔‘ ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض بھی جلاوطنی کا تلخ تجربہ رکھتی ہیں۔ وہ مجبوراً وطن سے باہر رہنے کے دکھ کو تو محسوس کرتی ہیں، لیکن نواز شریف کے حوالے سے انہیں شکایت بھی ہے۔ وہ کہتی ہیں ’یہ سچ ہے کہ کسی کے ساتھ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے، لیکن جب میں جلاوطنی ختم کر کے لوٹی تھی تو ملک میں نواز شریف کی حکومت تھی اور میرے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔ مجھے را (بھارتی خفیہ  | | | ممتاز شاعرہ فہمیدہ ریاض بھی جلاوطنی کا تلخ تجربہ رکھتی ہیں | ایجنسی) کا ایجنٹ کہا گیا اور قومی اسمبلی میں میرے لیے یہ بات کہی گئی۔‘انہوں نے کہا کہ وہ صدر یا وزیر اعظم نہیں تھیں بلکہ ایک شاعرہ تھیں، پھر بھی نواز شریف کی حکومت نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نواز شریف کی جلاوطنی کو مکافاتِ عمل سمجھتی ہیں تو ان کا کہنا تھا ’مکافات عمل تو جو ہونا تھی ہوگئی، یہاں پر یہ وطیرہ رہا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو (دشمنوں کا) ایجنٹ کہتے رہے ہیں اور پھر باری باری خود ہی اس کا شکار بنتے رہے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک کہانی ہے۔‘ |