شریف برادران پر مقدمات کی حیثیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان واپس آنے پر مالی بدعنوانی جب کہ ان کے بھائی شہباز شریف کو بدعنوانی کے علاوہ قتل کے مقدمے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ کی طرف سے نواز شریف اور شہباز شریف کو پاکستان آنے اجازت کے دینے حکم کے بعد شریف برادران کی پاکستان آمد کے امکانات بڑے روشن ہوگئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد شریف برادران جلد ہی وطن واپس آجائیں گے۔ بارہ اکتوبر ننانوے کونواز شریف کی حکومت کے خاتمہ پر ان کے اور ان کے خاندان کے ارکان کے خلاف ایک سال کے دوران چھ کے قریب مقدمات قائم کئے گئے تھے۔ ان چھ مقدمات میں طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر کیس میں نواز شریف کو قید، جرمانہ اور نا اہلی کی سزائیں سنائی گئی تھیں جبکہ دیگر مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے۔ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے چھ اپریل سنہ دو ہزار کو نوازشریف کو طیارہ ہائی جیک کرنے کی سازش کے مقدمہ میں قید اور پانچ ملین جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ نواز شریف کو بیس لاکھ کی رقم ادا کریں گے جو کولمبو سے کراچی آنے والے طیارے کے تمام مسافروں میں مساوی تقسیم کی جائے گی۔ عدالت نے اسی مقدمہ میں نواز شریف کے تمام جائیداد بھی ضبط کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے اس مقدمہ میں شریک ملزموں شہباز شریف، وزیراعظم کے مشیر سید غوث علی شاہ، احتساب بیوور کے سربراہ سیف الرحمن، پی آئی اے کے چیئرمین شاہد خاقان عباسی، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی اور آئی جی پولیس سندھ رانا مقبول کو بری کردیا تھا۔ سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس(ر) سعید الزمان صدیقی کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت جب ایک مرتبہ صدر مملکت سزا کو معاف کردیں تو اس سزا کو دوبارہ بحال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کے خلاف مقدمات ہوئے تو ان کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اٹک میں قائم احتساب عدالت نے بائیس جولائی سنہ دوہزار کو ہیلی کاپٹر ریفرنس میں ٹیکس چوری کے الزامات چودہ برس قید اور بیس ملین جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے نیب آرڈیننس کے تحت نواز شریف کو اکیس برس کے لئے کسی بھی عوامی اور سرکاری عہدے کے لئے نااہل قرار دیا تھا۔ اٹک احتساب عدالت میں ہونے والی کارروائی کا نواز شریف کے وکلا نے بائیکاٹ کیا تھا۔ عدالت نے اس ریفرنس کے شریک ملزم سیف الرحمن کو بری کردیا تھا۔ نواز شریف نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر نہیں کی تھی۔ نواز شریف کے وکیل اشتر اوصاف علی شیخ کے مطابق نواز شریف کی جلاوطنی کے موقع پر اس وقت کے صدر مملکت رفیق تارڑ نے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے کہنے پر ان دونوں مقدمات میں ان کی سزائیں معاف کردیں تھیں۔ نیب نے سنہ دو ہزار میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے ارکان کے خلاف ریفرنس دائر کئے۔ یہ مقدمات حدیبیہ پیپرز ملز، اتفاق فونڈریز اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کے حوالے سے قائم کیے گئے تھے جب کہ شہباز شریف کے خلاف لاہور کی ایک عدالت میں قتل کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف اور ان کے خاندان کے ارکان کی دس دسمبر سنہ دو ہزار میں سعودی عرب میں جلاوطنی کے بعد احتساب عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک کو نیب کی طرف سے درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔
نواز شریف اور شہباز شریف کی طرف سے وطن واپسی کے لیے سپریم کورٹ درخواستیں دائر کرنے کے بعد نیب نے شریف خاندان کے خلاف زیر سماعت مقدمات پر دوبارہ سماعت کے لئے عدالت سے درخواست کی جس پر راولپنڈی کی احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے ارکان کے خلاف نیب کے دائر کردہ تین مقدمات پر کارروائی از سرِ نو شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ نواز شریف کے وکیل اشتراوصاف علی کا یہ موقف ہے کہ شریف خاندان کے خلاف نیب کے دائر کردہ ریفرنس بھی واپس لے لیےگئے تھے جس کے بعد اب نہ تو معاف کردہ سزا کو بحال کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی واپس لیے گئے ریفرنسوں کو دوبارہ کھولا یا ری اوپن کیا جاسکتا ہے۔ نیب کے مطابق حدبیہ پیپرز ملز کے ریفرنس میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں میاں محمد شریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس اہلیہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر اہلیہ محمد صفدر شامل ہیں۔ اس ریفرنس میں شریف خاندان کے ارکان پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اتفاق فونڈری کے ریفرنس میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں۔ ریفرنس میں ملزمان کے خلاف دانستہ نادہندگی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رائے ونڈ میں قائم اثاثہ جات کے ریفرنس میں میاں محمد شریف، ان کی اہلیہ شمیم اختر اور نواز شریف نامزد ملزم ہیں۔ سترہ اگست کو احتساب عدالت کے جج چودھری خالد محمود نے ڈپٹی پراسیکوٹر جنرل سے کہا کہ وہ مدعا علیہان کے موجودہ پتے اور ان کے سٹیٹس کے بارے میں عدالت کو معلومات فراہم کریں تاکہ انہیں نوٹس جاری کیے جا سکیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت پچیس اگست تک ملتوی کررکھی ہے۔ عدالت نے نیب کے وکیل کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان میں سے ایک ملزم محمد شریف وفات پا گئے ہیں لہذا وہ اس بارے میں ایک بیان ان مقدمات کی آئندہ سماعت پرعدالت میں دیں۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں شہباز شریف کے خلاف ایک مقدمہ (استغاثہ) زیر سماعت ہے جس میں عدالت نے شہباز شریف کے پیش نہ ہونے پر ان کو مفرور قرار دے رکھا ہے۔
شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران انیس سو ننانوے میں لاہور کے علاقہ سبزہ زار میں پانچ لڑکوں کو ایک جعلی پولیس مقابلے کے ذریعے قتل کرایا تھا۔ اس مقدمے میں ان کے ساتھی ملزمان کے طور پر نامزد کئی پولیس افسران بھی خصوصی عدالت میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ عدالت پیش نہ ہونے پر سنہ دو ہزار تین میں مفرور قرار دے کر شہباز شریف کے دائمی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے۔ |
اسی بارے میں جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان واپسی کی سماعت 16 اگست کو09 August, 2007 | پاکستان تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم17 August, 2007 | پاکستان ’کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا‘17 August, 2007 | پاکستان ’انحراف کی صورت میں سزا بحال‘17 August, 2007 | پاکستان شریف خاندان،نیب مقدمے پھرشروع17 August, 2007 | پاکستان جلاوطنی معاہدے کی نقل عدالت میں22 August, 2007 | پاکستان دستاویزات کے لیے مزید تین ہفتے22 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||