علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | نواز شریف محض حصول اقتدار کو سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں: وصی ظفر |
پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کی خاندان سمیت وطن واپسی کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ اس موضوع پر حکمران مسلم لیگ کی طرف سے بات کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی کی صورت میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک نیک شگون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ شریف برادران کے لیے بھی امتحان ہے کہ وہ کتنی جلدی واپس آ کر اپنے اوپر قائم مقدمات کاسامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور دوسرے خودساختہ جلاوطن رہنماؤں کا یہ فرض ہے کہ وہ وطن واپس آ کر فوجی آمریت سے نجات کی جدوجہد میں عوام کے ساتھ شامل ہوں اور اسے نتیجہ خیز بنائیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلےکا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو وطن لوٹنے سے نہیں روکا جاسکتا۔  | | | اب یہ شریف برادران کے لیے بھی امتحان ہے کہ وہ کتنی جلدی وطن واپس آتے ہیں: قاضی |
پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے مختصر بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا دیرینہ موقف ہے کہ ہر پاکستانی شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے ملک میں بلا رکاوٹ آزاد اور محفوظ زندگی بسر کرے، جیسا کہ آئین اسے یہ حق دیتا ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نواز شریف اب وطن لوٹنے میں تاخیر نہ کریں قوم ان کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کے عوام اور جمہوری قوتوں کا حوصلہ بڑھا ہے۔ انہوں نے عدلیہ سے مزید اچھے فیصلوں کی توقع ظاہر کی ہے۔ ادھر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیرافگن نیازی نے ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ فیصلہ ایک روز کی تاخیر سے بھی سنایا جا سکتا تھا اوراس کے لیے عدالت کا وقت بڑھانا مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو واپس آ کر زیرالتواء مقدمات کا سامنا کرنے پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ جوڈیشل ایکٹوازم (عدالتی فعالیت) کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی نے کہا کہ دراصل ماضی میں عدلیہ اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کرتی رہی ہیں اور اب وہ آئین اور قانون کے عین مطابق چلنے لگی ہیں تو اس پر جوڈیشل ایکٹوازم کا ’الزام‘ لگایا جا رہا ہے۔  | | | عدلیہ جوڈیشل ایکٹوازم (عدالتی فعالیت) کا مظاہرہ کر رہی ہیں: نیازی |
وزیرقانون وصی ظفر نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلےکو تسلیم کرتے ہیں اور حکومت عدالتی فیصلوں سے انحراف کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ایک دوست ملک کے سربراہ کو تحریری طور پر جو یقین دہانی کرائی تھی اس سے انحراف کرنا کوئی مناسب قدم نہیں ہے۔ وزیر قانون کے بقول نواز شریف محض حصول اقتدار کو سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں (حکومت نے) انہیں جو مشروط رہائی دی تھی اس کا فیصلہ واپس بھی ہوسکتا ہے۔ |