BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 01:57 GMT 06:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز، شہباز اب فوراً وطن پہنچیں‘

نواز شریف اور شہباز شریف
نواز شریف محض حصول اقتدار کو سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں: وصی ظفر
پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کی خاندان سمیت وطن واپسی کے حق میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

جبکہ اس موضوع پر حکمران مسلم لیگ کی طرف سے بات کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی کی صورت میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک نیک شگون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ شریف برادران کے لیے بھی امتحان ہے کہ وہ کتنی جلدی واپس آ کر اپنے اوپر قائم مقدمات کاسامنا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف اور دوسرے خودساختہ جلاوطن رہنماؤں کا یہ فرض ہے کہ وہ وطن واپس آ کر فوجی آمریت سے نجات کی جدوجہد میں عوام کے ساتھ شامل ہوں اور اسے نتیجہ خیز بنائیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلےکا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو وطن لوٹنے سے نہیں روکا جاسکتا۔

اب یہ شریف برادران کے لیے بھی امتحان ہے کہ وہ کتنی جلدی وطن واپس آتے ہیں: قاضی

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے مختصر بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا دیرینہ موقف ہے کہ ہر پاکستانی شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے ملک میں بلا رکاوٹ آزاد اور محفوظ زندگی بسر کرے، جیسا کہ آئین اسے یہ حق دیتا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نواز شریف اب وطن لوٹنے میں تاخیر نہ کریں قوم ان کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کے عوام اور جمہوری قوتوں کا حوصلہ بڑھا ہے۔ انہوں نے عدلیہ سے مزید اچھے فیصلوں کی توقع ظاہر کی ہے۔

ادھر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیرافگن نیازی نے ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ فیصلہ ایک روز کی تاخیر سے بھی سنایا جا سکتا تھا اوراس کے لیے عدالت کا وقت بڑھانا مناسب نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو واپس آ کر زیرالتواء مقدمات کا سامنا کرنے پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ جوڈیشل ایکٹوازم (عدالتی فعالیت) کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

سینٹ میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی نے کہا کہ دراصل ماضی میں عدلیہ اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کرتی رہی ہیں اور اب وہ آئین اور قانون کے عین مطابق چلنے لگی ہیں تو اس پر جوڈیشل ایکٹوازم کا ’الزام‘ لگایا جا رہا ہے۔

عدلیہ جوڈیشل ایکٹوازم (عدالتی فعالیت) کا مظاہرہ کر رہی ہیں: نیازی

وزیرقانون وصی ظفر نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلےکو تسلیم کرتے ہیں اور حکومت عدالتی فیصلوں سے انحراف کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ایک دوست ملک کے سربراہ کو تحریری طور پر جو یقین دہانی کرائی تھی اس سے انحراف کرنا کوئی مناسب قدم نہیں ہے۔

وزیر قانون کے بقول نواز شریف محض حصول اقتدار کو سامنے رکھ کر اپنا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں (حکومت نے) انہیں جو مشروط رہائی دی تھی اس کا فیصلہ واپس بھی ہوسکتا ہے۔

شاعرہ فہمیدہ ریاضپاکستانی جلاوطن
عدلیہ کی آزادی، جلاوطنی کا کرب اور مکافات عمل
ایک پوسٹرپہلے شہبازشریف
سپریم کورٹ کا فیصلہ، جاوید سومرو کا تجزیہ
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
نواز شریف’فوج سے ڈیل نہیں‘
ہمیں شوکت عزیز بننا قبول نہیں ہے: نواز شریف
nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
شریف جلاوطنی
پاکستانی سیاست میں سعودی مداخلت
مشرفمشرف، نواز رابطے
مشرف نے نواز شریف کو فون کیا تھا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد