BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 August, 2007, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواز، شہباز شریف وطن واپس آسکتے ہیں‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف

شریف برادران کی آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے قرار دیا ہے کہ دونوں بھائی بغیر کسی رکاوٹ کے وطن واپس آ سکتے ہیں۔

سات رکنی لارجر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف پاکستان کے شہری ہیں اور آئین کی آرٹیکل پندرہ کے تحت ان کو وطن واپس آنے سے نہیں روکا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے اپنے مختصر فیصلے میں وفاقی حکومت، چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی کہ شریف برادران کی وطن واپسی میں کسی بھی نوعیت کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل کی سماعت مکمل کی ہے اور اعلان کیا کہ اس بارے میں وہ اپنا مختصر فیصلہ پاکستانی وقت کے مطابق چار بجے سنائے گا۔

بینچ کے سامنے حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم اور وفاق کے دو وکلاء بیرسٹر احمد رضا قصوری اور راجہ ابراہیم ستی نے دلائل دیئے۔ شریف خاندان کے وکیل جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم نے آئینی درخواست کی حمایت میں دلائل دیے۔

اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے اپنے دلائل میں آئینی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق دلائل دینے کی بجائے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کو ان آئینی درخواستوں کی سماعت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ اس کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کا معاملہ دو فریقوں کے درمیان طے پانے والا ایک معاملہ ہے جس میں ایک دوست ملک بھی شریک ہے۔

سماعت کے دوران صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل صاحبان نے بھی دلائل دیے۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے آئینی درخواست کی مخالفت کی جبکہ سرحد کے ایڈووکیٹ جنرل نے اس کی حمایت میں دلائل دیے۔

مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے کارکن سپریم کورٹ پہنچنا شروع ہو گئے۔

سماعت کے دوران وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی سے ملک سے باہر گئے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدر مشرف کی کتاب ان دا لائن آف فائر کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں لکھا گیا ہے کہ سابق وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف ملک سے نہیں جانا چاہتے تھے۔ عدالت نے صدر مشرف کی کتاب احمد رضا قصوری کے حوالے کی اور انہیں متعلقہ صفحات پڑھنے کو کہا اور ان کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔

عدالت کے استفسار پر احمد رضا قصوری نے بتایا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی واپسی سے متعلق کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے تو وہ وطن واپس آ سکتے ہیں۔

وفاق کے دوسرے وکیل راجہ ابراہیم ستی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے سے ملک میں ایمرجنسی لاگو ہے۔ اس پر عدالت نے ابراہیم ستی سے کہا کہ وہ ذرا سوچ کر بیان دیں کیونکہ ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے دوررس نتائج ہو سکتے ہیں۔

عدالت کے پوچھنے پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے ایمرجنسی سے متعلق بیان کی وضاحت کے لیے بیس منٹ کی مہلت مانگی جس پر عدالت کی کارروائی بیس منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپنی عدالت میں واپسی پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق بحال ہیں اور کوئی ایمرجنسی نہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدالت اس آئینی پٹیشن کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ چند روز بعد لارجر بینچ کے کچھ جج صاحبان تعطیلات کی وجہ سے دستیاب نہ ہوں۔

اس سے قبل صبح کی کارروائی کے دوران سات رکنی بینچ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے عدالت میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات معاہدہ کی ذیل میں نہیں آتیں اور انہیں صرف عہد نامہ کہا جا سکتا ہے۔

سماعت کے آغاز میں نواز شریف خاندان کے وکیل جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے پٹیشنوں کی حمایت میں دلائل دیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل پندرہ کے تحت ملک کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے بلا کسی روک ٹوک کے وطن واپس آ سکتا ہے۔

پٹیشنوں کے خلاف دلائل دیتے ہوئے وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان کی طرف سے دائر کی جانے والی پٹیشنیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک دوست ملک سے شریف خاندان کے معاہدوں کی اصل کاپیاں حاصل کر لی ہیں۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس محمد رضا خان نے کہا کہ ان دستاویزات کو معاہدے نہ کہا جائے کیونکہ ان پر صرف ایک فریق کے دستخط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کو زیادہ سے زیادہ عہد نامے کہا جا سکتا ہے۔
شریف خاندان کی جلاوطنی سے متعلق پٹیشنوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیں جبکہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس راجہ فیاض احمد بینچ کے دیگر ارکان ہیں۔

معاہدے میں کیا ہے؟
جلاوطنی کے معاہدے کے متن کی تلخیص
جلاوطنی کے معاہدے کا عکستصاویر میں
نواز شریف اور حکومت کے معاہدے کا عکس
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
معافی، پھرمقدمہ کیسا
نیب کیس نہیں کھُل سکتے: ماہرین قانون
شہباز شریفمعاہدہ سے انکار نہیں
’بندوق کے زور پر کروائی گئی چیز کی کیا حیثیت‘
بینظیر کی ’ڈیل‘
نواز شریف نے بینظیر پر شدید تنقید کی ہے
اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد