BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 07:50 GMT 12:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پہلے کون وطن واپس لوٹے گا، غور شروع

لندن میں ہونے والی دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات (فائل فوٹو)
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے اپنے اپنے طور پر اس بات پر سوچ بچار شروع کردی ہے کہ بےنظیر بھٹو یا نواز شریف میں سے کسے پہلے پاکستان جانا چاہیے اور یہ کہ پہلے اور بعد میں جانے کے کیا فوائد اور کیا نقصانات ہیں۔

دونوں سابق وزرائے اعظم جلاوطنی کاٹ رہے ہیں اور ان کی سیاسی جماعتوں نے ان کی واپسی کے معاملات پر غور کے لیے اپنے اعلی سطحی اجلاس بلا لیے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کی مرکزی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس سنیچر کی صبح گیارہ بجے راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہورہا ہےجبکہ بےنظیر بھٹو نے پیپلزپارٹی کی پاکستانی قیادت کو لندن طلب کرلیا ہے جہاں اگلے ہفتے یا موجودہ مہینے کے اختتام پر بےنظیر کی موجودگی میں صلاح ومشورے کی ایک سے زائد نشستیں ہونگی۔

پیپلز پارٹی کے قائدین نے یہ اندازہ کرنےکے بعد کہ جمعرات کو نواز شریف کی واپسی کا فیصلہ متوقع تھا۔ فیصلے سےایک روز پہلے ہی اسلام آباد میں بے نظیر واپسی کے حوالے سے ایک خصوصی ہنگامی اجلاس کیا۔ یہ اجلاس چھ گھنٹے جاری رہا اور اس میں مخدوم امین فہیم، رضا ربانی، یوسف رضاگیلانی، جہانگیربدر کےعلاوہ ناہیدخان، صفدرعباسی اور فرحت اللہ بابر اور شیری رحمان نے شرکت کی۔

چاروں صوبوں کی قیادت اور سندھ، پنجاب کی اسمبلیوں کے اپوزیشن لیڈر بھی اس اجلاس میں شامل ہوئے تھے۔

اجلاس نےاپنی سفارشات مرتب کرلی ہیں جن پر اب بےنظیر کے ساتھ بات چیت ہوگی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بےنظیر نے قائدین کو ہدائت کی ہے کہ وہ اٹھائیس سے دو ستمبر کے دوران لندن میں موجود رہیں۔ بےنظیر اس سے پہلے لندن پہنچنے کی کوشش کریں گی۔

اسی طرح مسلم لیگ کے قائدین سنیچر کو اجلاس کرنےکے بعد دوبارہ لندن میں اکٹھے ہونگے جہاں شریف خاندان کی سربراہی میں واپسی طے کریں گے۔اس طرح اگلے چند دنوں کےدوران لندن پاکستان کی اپوزیشن کی سیاست کا مرکز ہوگا۔

دونوں پارٹیوں کے اجلاسوں میں جہاں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کس کا قائد پہلے وطن لوٹے وہاں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس امکان پر بھی یقیناً بات ہوگی کہ بےنظیر اور نواز شریف ایک ساتھ ایک ہی پرواز پر واپس جائیں۔

سنیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کےرہنما رضاربانی سے بی بی سی نےایسے کسی امکان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ ایک وقت میں بےنظیر نے یہ بات کہی تھی کہ’ اچھا ہوگا کہ دونوں ایک ساتھ وطن لوٹیں‘ لیکن رضا ربانی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مسلم لیگ نواز نے مزید کوئی سنجیدہ بات نہیں کی تھی۔

رضا ربانی نے کہاکہ غالب امکان یہی ہے کہ دونوں الگ الگ آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور بےنظیر کی اپنی اپنی حیثیت ہے اور اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑےگا کہ کون پہلے اور کون بعد میں آتا ہے۔

نواز شریف اور بےنظیر دونوں کے خلاف ہی مقدمات پاکستانی عدالتوں میں موجود ہیں۔ دونوں عدالتوں سے مزید ریلف کےبارے میں سوچ رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وقتی طور پر جیل جانے کا خطرہ بھی اپنی جگہ ہے جس سے دونوں رہنما گھبراتے ہیں۔ یہ خوف انہیں مجبور کرسکتاہے کہ وہ دوسرے کو پہلے جاتا دیکھ لیں اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا جائزہ لے لیں لیکن اس صورت میں بظاہر زیادہ عوامی مقبولیت پہلےجانےوالا حاصل کرسکتاہے۔

بےنظیر کے پاس ڈیل اورایک آئینی پیکج کی آپشن ابھی تک موجود ہے تو نوازشریف خود پہلے خاندان کے دیگر افراد کو بھجوانے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔

وہ یہ فیصلہ بھی کرسکتے ہیں کہ ان سے پہلے ان کے بھائی شہباز شریف چلےجائیں لیکن شہباز شریف کے خلاف بھی مالی بدعنوانیوں کے مقدمات شروع ہوچکے ہیں اور پانچ افراد کی جعلی مقابلے میں ہلاکت کا ایک ایسا مقدمہ پاکستانی عدالت میں ان کا منتظر ہے جس میں وہ مفرور ہو چکے ہیں۔اس مقدمے میں انہیں موت تک کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

شریف خاندان کے پاس ایک تیسری اہم سیاسی شخصیت خود نواز شریف کی اہلیہ ہیں جنہوں نے ایک گھریلو خاتون ہونے کےباوجود اپنے شوہر کی گرفتاری کے بعد ایک سال تک نواز لیگ کی قیادت سنبھالے رکھی اور بھرپور احتجاجی مظاہرے بھی کیے تھے۔ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہےکہ کلثوم نواز کو پہلے بھیجا جانا ایک اچھا آپشن ہوسکتا ہے لیکن شریف خاندان کو اس پر راضی کرنا ایک مشکل کام ہوگا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کاکہنا ہےکہ بہرحال بےنظیر اور نواز شریف کی عام انتخابات سے پہلے واپسی ان کی سیاسی بقا کے لیے بے حد ضروری ہےاوران کی واپسی کےموقع پر ہونے والا استقبال اور بعد کےحالات ان دونوں کے لیے دوررس نتائج کے حامل ہونگے۔

بہرحال رضاربانی کہتے ہیں کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون پہلےکون بعد میں آئے گا ان کے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ دونوں لیڈروں کو آمریت کےخاتمےاور عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے اس ملک میں موجود ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب دونوں رہنما پاکستان میں ہوں گے اور ہوسکتا ہے وہ دنوں اکٹھےایک ہی مہم چلا رہے ہوں یا الگ الگ ایک سمت کو چل رہے ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد