BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 July, 2007, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فاٹا میں سیاست کرنے دیں‘

جاوید ہاشمی کی رہائی کی درخواست بھی دی گئی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ صدرِ پاکستان کو ہدایت کریں کہ وہ سیاسی جماعتوں کو قبائلی علاقوں میں سیاست کرنے کی اجازت دینے کے لیے پولیٹکل پارٹیز ایکٹ کو فاٹا میں لاگو کریں۔

پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو نے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ فاٹا کو مذہبی جماعتوں کے حوالے کر دیا گیا ہے اور مذہبی جماعتوں کے علاوہ کسی اور سیاسی جماعت کو فاٹا میں سیاست کرنے کا حق نہیں ہے۔

بیرون ملک مقیم پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نے اپنے وکیل سینٹر سردار لطیف خان کھوسہ اور فاروق ایچ نائیک کے ذریعے دائر کی جانے والی درخواست میں لکھا ہے کہ سات قبائلی ایجنسیوں میں چھتیس لاکھ قبائلیوں کواپنی مرضی کی سیاسی جماعت چننے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

محترمہ بینظر بھٹو نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے مذہبی جماعتوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں سیاست کریں اور 2002 کے انتخابات میں حکومت نے فاٹا میں ایم ایم اے کے امیدواروں کو کتاب کا انتخابی نشان بھی آلاٹ کیا تھا جو مذہبی جماعتوں کو ملک کے دوسرے حصوں میں حاصل تھا۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ مذہبی جماعتوں پر مسجد اور مدرسے سے سیاست کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ باقی کسی جماعت کو قبائلی حکومت میں سیاست کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا آفس محترمہ بینظیر بھٹو کی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد اسے عدالت کے سامنے لگانے یا پھر اسے درخواست گزار کو واپس کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

دریں اثنا سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مسلم لیگ (نواز) کے مقید رہنما جاوید ہاشمی کی ضمانت کی درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ اس کی ضمانت سے متعلق درخواست کو جلد سننے کا حکم جاری کرے۔

جاوید ہاشمی کو تین سال پہلے فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر انیس سال قید کی سزا سنائی گی تھی۔ جاوید ہاشمی کی ایک جرم میں زیادہ سے زیادہ سات سال سزا ہے اور تمام سزائیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔

جاوید ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ ان کا مؤکل جیل مینوئل کے مطابق اپنی سزا پوری کر چکے ہیں اور اب ان کو رہا ہونا چاہیے۔

وکیل نےعدالت کی توجہ سپرنٹنڈنٹ جیل کے اس خط کی طرف بھی دلائی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جاوید ہاشمی کو غداری کے الزام میں سزا دی گئی ہے اس لیے ان کو جیل مینوئل میں دی گئی رعایتں نہیں مل سکتیں ان کو سات سال تک جیل میں رہنا پڑے گا۔

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ اسی مقدمے کو بدھ کے روز دوبارہ سنا جائے گا۔

اسی بارے میں
’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘
23 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد