پنڈی خودکش حملے، 25ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ٹیکسی ڈرائیور محمد الیاس نے بتایا: ’میں نے زور دار دھماکہ سنا۔اس وقت میں گاڑی میں تین بچیوں کو سکول لے جا رہا تھا۔ بس کچھ سمجھ نہیں آیا کہ ہوا۔‘ میجر جنرل وحید ارشد نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق راولپنڈی میں ہونے والے دھماکے خودکش حملے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق جب بس سرکاری اہلکاروں کو لینے کے لیے رکی تو زور دار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ ڈرائیور کی نشست کے پیچھے دو قطاروں میں ہوا۔ دھماکے سے بس کی چھت اڑ کر تقریباً پچاس فٹ پیچھے جا گری۔ بس میں سوار لوگوں کے جسم کے ٹکڑے، کپڑے اور جوتے دور دور تک بکھرگئے۔ فوجی حکام نے فوراً علاقے کو گھیرے میں لے کر ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ تحقیقاتی اداروں کے اہلکاروں نے تفتیش بھی شروع کر دی ہے۔ بعد میں بس کو ایک کرین کے ذریعے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اس واقعے کے چند ہی منٹ بعد دوسرا دھماکہ فوج کے ہیڈکواٹر کے صدر دروازے سے تقریبا تین سو گز کے فاصلے پر آر اے بازار چوک میں ہوا۔
دونوں دھماکے دفاتر اور سکولوں کے رش کے اوقات میں ہوئے۔ آر اے بازار میں دھماکے سے ٹیکسیوں اور عام گاڑیوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ تقریبا دس گاڑیاں جن کے شیشے ٹوٹ گئے اور جن پر چھروں کے واضع نشانات تھے، بعد میں قریب ہی آر اے بازار تھانے میں کھڑی کر دی گئیں۔ بعض موٹرسائیکلیں بھی جل کر تباہ ہوئیں۔ میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ یہ دھماکے فوجی علاقے میں نہیں چھاؤنی میں ہوئے جہاں زیادہ آبادی عام شہریوں کی رہتی ہے۔ پاکستان فوج کے ترجمان نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چوبیس بتائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قاسم مارکیٹ کے علاقے میں جس بس میں دھماکہ ہوا وہ وزارت دفاع کی تھی۔ابھی تک کسی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ایف آئی اے انویسٹیگیشن یونٹ کے ڈپٹی کمانڈنٹ لیاقت علی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق دونوں دھماکے خود کش حملہ آوروں نے کیے۔ ایس پی آپریشنز راولپنڈی یاسین فاروق کا کہنا ہے کہ آر آے بازار میں ہونے والا دھماکہ ایک موٹر سائیکل سوار نے اس وقت کیا جب علاقے میں گاڑیوں کا بہت زیادہ رش تھا۔ آر اے بازار پولیس نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا جس میں ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے سے قریبی دکانوں میں بیٹھے دکاندار بھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان میں پچاس سالہ محمد سعید بھی تھے جو پان کی دوکان چلاتے تھے۔
آر اے بازار میں عینی شاہدین نے کہا کہ پولیس اور فوجی اہلکار پچیس منٹ کے بعد موقع پر پہنچے حالانکہ تھانہ اور جی ایچ کیو چند منٹ کے فاصلے پر تھے۔ ایک شخص علی نے شکایت کی کہ ایک فوج گاڑی کو زخمی لے جانے کی درخواست کی تو اس نے کان نہیں دھرے۔ قاسم مارکیٹ کے قریب افشاں کالونی کے رہائشی مقامی ارشد جمیل کا کہنا ہے کہ پورا علاقہ اس دھماکے کی گونج سے لرز اٹھا۔ دھماکے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد جائے حادثے پر جمع ہو گئی۔ |
اسی بارے میں اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک28 July, 2007 | پاکستان ’انڈیا الزامات سے گریز کرے‘27 August, 2007 | پاکستان سوئی: گیس پائپ لائن کو نقصان 30 August, 2007 | پاکستان سوات: دو حملوں میں تین ہلاک31 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||