BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: دو حملوں میں تین ہلاک

 پولیس وین
واقعات کے بعد سیدوشریف ائرپورٹ میں تعینات ایف سی کے اہلکار راتوں رات کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل اور ایف سی کی چوکی پر دو الگ الگ حملوں میں ملیشیا کے دو اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سوات کے ضلعی رابط افسر سید جاوید علی شاہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پہلا واقعہ مینگورہ سے بیس کلومیٹر دور خوازہ خیلہ کے مقام پر جمعہ کو رات گئے اس وقت پیش آیا جب نامعلوم افراد کی طرف سے پولیس کی ایک گشتی ٹیم پر خودکار ہھتیاروں سے حملہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں ایک راہ گیر ہلاک جبکہ ایک پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔

دوسرا واقعہ مینگورہ سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر دور گلی باغ کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے رات کی تاریکی میں قریبی پہاڑوں سے ملیشیا فورسز کے ایک نو تعمیر شدہ چوکی کو راکٹ لانچروں سے نشانہ بنایا جس سے دو ایف سی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

ضلعی رابط افسر کے مطابق اس حملے سے چوکی میں موجود اسلحہ کے ذخیرے میں اگ لگ گئی جس سے چوکی کو نقصان پہنچا ہے۔

 جمعہ کی رات ہی حکام کے مطابق مینگورہ کے علاقے کولا ڈھیر میں قائم پولیس کی ایک یادگار کو بم دھماکے میں اڑا دیا گیا ہے۔ ’شہدائے پولیس‘ کے نام سے مشہور یہ یادگار سوات میں پہلے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے چار پولیس اہلکاروں کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی

ادھر جمعہ کی رات ہی حکام کے مطابق مینگورہ کے علاقے کولا ڈھیر میں قائم پولیس کی ایک یادگار کو بم دھماکے میں اڑا دیا گیا ہے۔ ’شہدائے پولیس‘ کے نام سے مشہور یہ یادگار سوات میں ہونے والے پہلے خودکش حملے میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ان کے یاد میں تعمیر کی گئی تھی۔ دھماکے کی یادگار مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔

مقامی صحافی شرین زادہ کانجو کے مطابق گزشتہ رات کے واقعات کے بعد سیدوشریف ائرپورٹ میں تعینات ایف سی کے اہلکار راتوں رات کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے بعد سوات میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان حملوں کا بظاہر نشانہ پولیس اہلکار ہیں جو دن کے وقت علاقے میں گشت کرتے ہوئے کم ہی نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں
لال مسجد کے حق میں مظاہرے
03 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد