BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات پر جرگے کی تشکیل کا اعلان

سوات سکیورٹی
سوات میں خود کش حملے کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے
صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے سوات اور ملا کنڈ ڈویژن میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور ان علاقوں میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال بہتر بنانے کےلیے ایک جرگہ تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس بات کا اعلان وزیر اعلیٰ نے پیر کو سی ایم سیکریٹریٹ پشاور میں سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے اراکین پارلمینٹ، ناظمین اور قبائلی اکابرین کے ایک نمائندہ جرگہ سے خطاب کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جرگہ میں تمام سیاسی جاعتوں کے ممبران ، قبائلی اکابرین اور منتخب عوامی نمائندے شامل ہونگے جو ضلعی سطح پر مقامی انتظامیہ سے مل کر امن کے قیام کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ سوات میں فوجی آپریشن کیا جا رہا ہے۔

’ جب تک میں اس کرسی پر بیٹھا ہوں سوات اور ملاکنڈ میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ سوات میں فوج سول انتظامیہ کی مدد کرنے اور علاقے میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے تعینات کی گئی ہے۔

وزیراعلی کا کہنا تھا کہ سوات میں فوج کی نقل وحمل محدود کی جا رہی ہے تاکہ ان سے عوام کے لیے کوئی مشکلات پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فوج چھاؤنیوں میں رہے گی اور ضرورت پڑنے سول اتنظامیہ کی مدد کے لیے طلب کی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ نیشنل سکیورٹی کونسل کی اجلاس میں بھی طے پا چکی ہے۔

سوات اور ملاکنڈ ڈویژن میں امن وامان کی صورتحال گزشتہ کچھ عرصہ سے کشیدہ ہے جبکہ لال مسجد آپریشن کے بعد وہاں تعینات فوج اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے ہوئے ہیں۔

وزیرستان امن معاہدے کے ٹوٹنے سے متعلق ایک سوال پر اکرم خان درانی نے کہا کہ اس معاہدے کے ختم ہونے کے سنگین نتائج برآمد ہونگے اور اس کے اثرات نہ صرف قبائلی علاقوں پر پڑیں گے بلکہ اس کے منفی اثر سے ملک کے دوسرے علاقے بھی نہیں بچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدہ برقرار رکھنے کےلیے وہ اور گورنر سرحد مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے دونوں کی گزشتہ روز طویل ملاقات بھی ہوئی تھی۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ اس معاہدہ کے خاتمے سے وہ لوگ خوش ہوں گے جو اس پر ناراض تھے۔

واضح رہے کے گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے امن معاہدہ یک طرفہ طورپر ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
سرحد میں حملے
سوات اور ڈی آئی خان میں خود کش حملے
’فوج معافی مانگے‘
آپریشنز میں ہم نے کافی لوگوں کو مارا: اسد درانی
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
اسی بارے میں
خودکش حملے، چالیس ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد