لال مسجد: لاپتہ طلباء، والدین کی مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں فوجی کارروائی کے خاتمے کو تین روز ہوچکے ہیں لیکن حکام نے اب تک مارے گئے چھیاسٹھ افراد کی شناخت نہیں کی ہے۔ یہ صورتحال لاپتہ طلبہ کے والدین کے لیے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے۔ لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں لڑائی کے آخری دن مارے جانے والے پچھتر افراد میں سے حکومتی معلومات کے مطابق صرف دس افراد کی ہی شناخت ہوسکی ہے تاہم حکومت نے اپنی ایک ویب سائٹ پر چار ایسی لاشوں کی تصاویر شائع کی ہیں جو بقول اس کے غیرملکی ہیں۔ بری طرح مسخ بعض لاشوں کے بارے میں مزید معلومات یعنی نام اور شہریت وغیرہ فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے جمعہ کی رات ایک اخباری کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ تازہ معلومات پر مبنی فہرستیں سپورٹس کمپلیکس اور وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ پر لگا دی جائیں گی تاہم ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ نہ تو ویب سائٹ میں کوئی فہرست ہے اور نہ کمپلیکس میں موجود عملے کے پاس تازہ معلومات ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار اعجاز نے بتایا کہ مرنے والوں کی فہرست ایک روز قبل انہیں فراہم کی گئی تھی اور اس میں کوئی نئی معلومات ابھی تک نہیں ڈالی گئی ہیں۔
مختلف بورڈز پر زخمی، گرفتار اور مرنے والوں کی فہرستیں آویزاں کی گئی ہیں۔ مرنے والے افراد جن کی شناخت ہوچکی ہے ان کی فہرست پر سبز مارکر سے ’لال مسجد میں فوت ہونے والوں کے نام‘ لکھے تھے۔ کسی نے موت کا لفظ کاٹ کر وہاں ’شہید‘ لکھ دیا۔ دور دراز علاقوں سے آئے کئی والدین رہائی پانے والے طلبہ کو اپنے جگر گوشوں کی تصاویر دکھا کر پوچھتے کیا تم نے اسے جیل، کسی ہسپتال یا مسجد میں دیکھا ہے؟ جواب اب تک نفی میں مل رہے تھے ورنہ وہ مثبت جواب کی صورت میں وہاں نہ ہوتے۔ آخر لاشوں کی شناخت میں تاخیر کی وجہ کیا ہے؟۔ یہ سوال اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس میں قائم طلبہ کے رشتہ دار ہر ایک سے پوچھتے دکھائی دیتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے نور محمد اپنے چودہ سالہ بھتیجے زین اللہ کی تلاش میں پانچ روز سے اسلام آباد میں در بدر گھوم رہے ہیں۔ ’تمام ہسپتال اور جیلیں چھان ماریں کہیں بھی نہیں ملا ہے۔ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاش بھی نہیں ملے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے حالات کی وجہ سے وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر کراچی منتقل ہوگئے اور بھتیجے کو اس مدرسے میں داخل کرا دیا مگر یہاں بھی یہ حال ہوگیا۔ ادھر حکام نے سنیچر کو لال مسجد و مدرسہ حفصہ سے گرفتار کیے گئے مزید چھاسی طلبہ رہا کر دیے ہیں۔ انہیں اڈیالہ جیل سے کل رات کمپلیکس لایا گیا تھا جہاں سنیچر کو والدین اور رشتہ داروں کی ضمانت پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
ایک پولیس افسر رانا محمد رمضان نے بتایا کہ ایک سو ستاون افراد کو کل یا پرسوں تک رہائی کی غرض سے یہاں لایا جائے گا۔ کشمیر کی دور دراز وادی وادی لیپا کے خانی زمان خوش قسمت صرف اس حد تک ہیں کہ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان کا بیٹا زندہ اور گرفتار ہے لیکن کب رہا ہوگا یہ سوال انہیں پریشان کیے ہوئے ہے۔ ان سے دریافت کیا کہ جب چھ ماہ سے لال مسجد کے حالات کشیدہ تھے تو وہ اپنے بچے کو پہلے ہی لے کر کیوں نہیں گئے۔ ان کا جواب تھا: ’ہمیں کیا معلوم یہاں کیا ہو رہا تھا۔ ہمارے پاس نہ ریڈیو ہے اور نہ میں ٹی وی دیکھتا ہوں۔ ہم غریب دور دراز علاقوں کے لوگ ہیں‘۔ اس سے قبل مرنے والوں کی تعداد اور اب لاشوں کی شناخت میں تاخیر سے عوامی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ صدر مشرف نے ایک اجلاس میں تمام معلومات فراہم کرنے کا حکم تو دیا ہے لیکن بظاہر کہیں جا کر اس پر عمل درآمد میں سستی سے کام لیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد آپریشن، تحقیقات کا مطالبہ11 July, 2007 | پاکستان لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے 73 لاشیں برآمد11 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: اصل بحران تو جاری ہے12 July, 2007 | پاکستان لال مسجد ہلاکتیں، غائبانہ نماز جنازہ13 July, 2007 | پاکستان لال مسجد، توجہ ہٹانے کا حربہ: بار 14 July, 2007 | پاکستان لال مسجد اور میڈیا: شہید کون؟10 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: سوالوں کے جواب ندارد12 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||