لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے 73 لاشیں برآمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں حکام نے اعلان کیا ہے کہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ مسجد اور مدرسے حفصہ سے دو روز کی کارروائی کے بعد تہتر لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اسلام آباد سے ہارون رشید کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ کئی لاشیں جل کر راکھ ہوچکی ہیں اور ان کی شناخت شاید ممکن نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارتوں کے ملبے سے شاید ایک یا دو لاش مزید ملیں تاہم اس کا بھی اتنا امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں عورتوں کی کوئی لاش نہیں ہے۔ یہ لاشیں مزید کارروائی کے لیےمقامی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً دو روز تک جاری رہنے والے آپریشن میں نو فوجی اور ساٹھ سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں رات بھر لال مسجد سے آئی ایٹ میں قائم ایک مردہ خانے میں منقتل کی جاتی رہیں۔
ادھر سپریم کورٹ نے مولانا عبدالرشید غازی کی تدفین کو اس وقت تک روکنے کا حکم جاری کر دیا جب تک ان کی بہنیں ان کی میت کو نہ دیکھ لیں۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے مولانا غازی کی تین بہنوں، عائشہ، جمیلہ اور نبیلہ کی درخواست پر وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مطالبہ تھا کہ عبد الرشید غازی، ان کی والدہ اور مولانا عبدالعزیز کے بیٹے حسان کو اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں واقع جامعہ فریدہ میں دفنایا جائے۔ جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ عبد الرشید غازی کی میت راجن پور میں ان کے آبائی گاؤں پہنچ چکی ہے اور ان کے بھائی مولانا عبد العزیز بھی پیرول پر رہائی کے بعد وہاں موجود ہیں۔ جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل بینچ نے حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ عبد الرشید غازی کی بہنوں کو راجن پور پہنچانے کے انتظامات کریں اور تدفین کو اس وقت مؤخر رکھا جائے جب تک بہنیں اپنے بھائی کی میت کو دیکھ نہ لیں۔ اس سے قبل فوج کے تعلقاتِ عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ منگل سے لال مسجد پر جاری حتمی آپریشن میں مسجد کے اندر ہونے والی ہلاکتوں کا اعلان آپریشن کے مکمل خاتمے کے بعد کیا جائے گا۔ صحافیوں کے بارہا اصرار کے باوجود انہوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے اب تک ملنے والی لاشوں کی تعداد بتانے سےگریز کیا اور کہا کہ آپریشن کا دوسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ہی مدرسے میں ہونے والی اموات کی تعداد بتائی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو بھی جی سکس سیکٹر میں کرفیو میں نرمی نہیں کی جائے گی۔ اس علاقے کے لوگ گزشتہ آٹھ دنوں سے کرفیو کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں، لیکن گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران اس میں کوئی نرمی نہیں کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری محمد علی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عبدالرشید غازی اور اُن کے دو ساتھیوں کی لاشیں پمز ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کے بعد تابوت میں بند کر کے سہالہ میں واقع سابق پولیس نیشل اکیڈمی کی عمارت میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی کے آبائی گاؤں روجھان مزاری سے اطلاعات ہیں کہ ان کی اور تین دیگر افراد کی میتیں تدفین کے لیے بدھ کو کسی بھی وقت ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچ رہی ہیں۔ تاہم اس بارے میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ابھی ایسا نہیں کیا جا رہا کیونکہ مولانا غازی کے ورثا نے ابھی لاش کی حوالگی کی درخواست دائر نہیں کی ہے۔ روجھان میں موجود صحافی جمشید بلوچ کے مطابق مولانا غازی کے عزیز و اقارب نے اگرچہ ان کی تدفین کے انتظامات مکمل کر رکھے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں امانتاً دفن کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات سازگار ہوتے ہی ان کی وصیت کے مطابق انہیں اسلام آباد میں جامعہ فریدیہ میں ان کے والد کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ ادھر آب پارہ تھانے میں دہشت گردی، قتل اور اغواء کی دفعات کے مولانا غازی اور ان کے کئی ساتھیوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ دو سو کفن منگوائے گئے سرکاری طور پر آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساٹھ سے زائد بتائی گئی ہے تاہم ایدھی فاؤنڈیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام نے ان سے دو سو کفن منگوائے ہیں۔
لال مسجد کے خلاف آپریشن میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو اب اسلام آباد سے راولپنڈی کے فوجی ہسپتالوں منتقل کر دیا گیا ہے۔ عبدالعزیز کی بیٹی روالپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بدھ کے روز جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُم حسان، اُن کی بیٹیوں طیبہ عزیز اور اسماء عزیز کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے کر انہیں پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ ڈی ایس پی سٹی سرکل اسلام آْباد ملک ممتاز کے مطابق ملزمان کا ریمانڈ تین جولائی کو رینجرز کے ایک اہلکار سمیت اُنیس افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں دیا گیا ہے۔ طیبہ عزیز اسلام آباد سے چینی باشندوں کے اغواء میں پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر تھیں۔ ایس پی انوسٹی گیشن اسلام آباد اشفاق احمد خان کے مطابق طیبہ عزیز کے خلاف پانچ مقدمات درج ہیں۔ چینی باشندوں کے اغواء کے کیس میں لال مسجد کے تین وکلاء وجیہ اللہ، جمیل شاہد اور محمد فاروق کو بھی تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ ان کو ہتھکٹریاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے پر وکلاء نے شدید احتجاج کیا، جس پر فاضل جج نے ان کی ہتھکٹریاں کھلوادیں۔ خود کش بمبار یہ اطلاع فوجی حکام کی جانب سے سول انتظامیہ کو بھیجے گئے ایک خط کے ذریعے سامنے آئی ہے۔
|
اسی بارے میں غازی کی تدفین روجھان میں متوقع11 July, 2007 | پاکستان 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے10 July, 2007 | پاکستان علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||