رفیعہ ریاض بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد |  |
 | | | ایسی ٹی وی تصاویر سے بچوں اور نوجوانوں کے ذھن کس طرح متاثر ہوتے ہیں؟ |
لال مسجد میں فوجی کارروائی سے متعلق ملک کے تمام نجی ٹی وی چینل لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے اپنے ناظرین کو باخبر رکھتے رہے اور یہ براہ راست نشریات ملک بھر میں معلومات کا ایک اہم ذریعہ بن گئیں۔ اس فوجی کارروائی کے بچوں کے ذہنوں پر کیا اثرات پڑے ہیں؟ اسلام آباد میں آٹھ سالہ سدرہ شہزاد کے گھر میں داخل ہوئی تو ٹی وی لاؤنج میں بچوں اور بڑوں کو ایک ساتھ خبریں دیکھتے ہوئے پایا۔ سدرہ سے جب پوچھا کہ ان کے خیال میں شہر میں کیا ہو رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ’ آج کل تو بس آپریشن ہی ہوئے جا رہے ہیں اورگولیاں چل رہی ہیں۔ بچے بھی لال مسجد کے اندر ہیں ۔میرے خیال میں یہ بچوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ نکلیں گے تو حکومت ان کو پکڑ کر لے جائے گی۔‘  |  آج کل تو بس آپریشن ہی ہوئے جا رہے ہیں اورگولیاں چل رہی ہیں۔ بچے بھی لال مسجد کے اندر ہیں ۔میرے خیال میں یہ بچوں کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ نکلیں گے تو حکومت ان کو پکڑ کر لے جائے گی۔  آٹھ سالہ سدرہ شکیل |
اس سوال پر کہ پہلے وہ کس قسم کے پروگرام دیکھتی تھیں سدرہ کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے صرف انٹرٹینمنٹ چینل ہی دیکھتی تھی جیسے کارٹون نیٹ ورک یا دوسرے چینلز پر ڈرامے وغیرہ لیکن اب بس نیوز ہی دیکھتی ہوں۔ وہ رینجرز دکھا رہے ہیں اور بندوقیں بھی دکھا رہے ہیں۔ مجھے تو بہت خوف آ رہا ہے۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں کیا لگ رہا ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے تو سدرہ کا جواب تھا’شاید یہ مغرب کو دکھانا چاہتے ہیں کہ جو برقعے پہننے والے سارے لوگ ہیں وہ دہشت گرد ہیں۔‘ سدرہ شہزاد کی بارہ سالہ بہن ثناء شہزاد کو شکوہ تھا کہ لال مسجد آپریشن کے بعد ان کے والدین بھی ان کو مناسب وقت نہیں دے پا رہے ۔انہوں نے شکوہ کیا کہ ’پہلے جب ابو دفتر سے آتے تھے تو وہ ہمارے ساتھ وقت گزارتے تھے ہم لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے تھے۔ اب ان کو زیادہ فکر لال مسجد کی ہوتی ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ پہلا سوال ان کا یہی ہوتا ہے کہ لال مسجد کا کیا بنا۔ اس کے بعد ٹی وی کے آگے بیٹھ کر نیوز چینلز دیکھنے لگ جاتے ہیں ۔ہم بھی ان ہی کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔خاص کر آج تو پورا دن ٹی وی پر یہی فلیش ہورہا ہے کہ ستر لوگ مر گئے ہیں، پچاس لوگ مر گئے۔ مجھے تو یہ سب بہت برا لگ رہا ہے۔ سارے شہر میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔ اگر وہ صرف حکومت کو ہی ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ان کے پاس ہتھیار کہاں سے آئے۔ یہ تو عجیب سا لگتا ہے۔‘  |  یہ سب ٹی وی سے سنا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں یہ تو مکمل ِخانہ جنگی ہے ۔کبھی کبھی تو ہمارے جاننے والے بچے خوف سے رونا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ موت سے ڈرتے ہیں۔ میرا تو خود دل کرتا ہے کہ پاکستان چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں۔ ہم لوگ تو باہر جا کر بالکل بھی نہیں کھیل سکتے کیونکہ بہت خطرہ ہے  تیرہ سالہ سعد شکیل |
تیرہ سالہ سعد شکیل ہر سوال کے جواب میں ’ٹیرارِزم‘ لفظ کا تقرار کرتے رہے۔ پوچھنے پر کہ ٹیرارِزم کیا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ’مجھے تو یہ پتہ ہے کہ اسلام آباد میں کمپلیٹ ٹیرار زم ہو رہا ہے۔اور بہت معصوم لوگوں کی جانیں جا رہی ہیں جو خواتین اور بچے ان کا برین واش کر کے ان سے یہ سب کام لیا جا رہا ہے۔ جو کہ بالکل غلط ہےاور یہ کمپلیٹ ٹیرارِزم ہے‘۔ یہ پوچھنے پر کہ یہ باتیں انہوں نے کہاں سے سنیں، سعد شکیل نے جواب دیا کہ ’یہ سب ٹی وی سے سنا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو مار رہے ہیں۔ یہ تو مکمل ِخانہ جنگی ہے۔ کبھی کبھی تو ہمارے جاننے والے بچے خوف سے رونا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ موت سے ڈرتے ہیں۔ میرا تو خود دل کرتا ہے کہ پاکستان چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں۔ ہم لوگ تو باہر جا کر بالکل بھی نہیں کھیل سکتے کیونکہ بہت خطرہ ہے‘۔ مہران رحمت یوں تو تیرہ سالہ بچے ہیں لیکن وہ ٹی وی پر لال مسجد آپریشن کی خبروں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ میرے کسی بھی سوال پوچھنے سے پہلے ہی انہوں نے لال مسجد کے تمام حالات لفظ بہ لفظ بیان کیے۔ ان سے جب پوچھا کہ ان کی اپنی زندگی پر ان واقعات نے کیا اثر ڈالا تو ان کا کہنا تھا’ ہم تو اس ڈر سے باہر نہیں نکل رہے کہ کہیں کوئی بم دھماکہ نہ ہو جائے۔ ہمارے ماں باپ بھی نہیں نکلنے دے رہے۔ میرے کچھ دوست پہلے لال مسجد قرآن پڑھنے جاتے تھے اب انہوں نےبھی وہاں جانا چھوڑ دیا ہے۔‘ |