لال مسجد اور میڈیا: شہید کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایک محلہ کی بیٹھک میں ٹی وی آن ہوتے ہی ایک نوجوان نے بڑھک لگائی ’اوغازی آگیا‘۔ محفل میں موجود سب لوگ ٹی وی کی جانب متوجہ ہوگئے اور پھر بحث شروع ہوگئی کہ فوج اور غازی عبدالرشید میں سے کون درست اور کون غلط ہے۔ یہ بحث صرف لاہور کے اس محلہ کی اس محفل تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر گلی ہر محلہ بازار اور دفاتر میں لوگ اس بارے میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی فوج کی مذمت کرتا ہے تو کوئی مسلمانوں میں انتہا پسندی کوخطرناک قرار دیتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر سات روز سے لال مسجد آپریشن کی مسلسل لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ نے عام لوگوں کو نفسیاتی طور پر بھی متاثر کیا ہے۔ ذہنی امراض کی علاج گاہ فاؤنٹین ہاؤس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سید عمران مرتضی نے کہا کہ عام لوگوں پر پاکستانیت اور مسلمان ہونے کا گہرا اثر ہے۔ وہ دونوں طرف مسلمانوں کو مرتے دیکھ رہے ہیں۔ لاشوں اور زخمیوں کو دیکھتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ دونوں فریق خود کو محب وطن بھی کہتے ہیں اور ایک دوسرے کی جان کے بھی درپے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نتیجہ کے طور پر لوگوں میں بے بسی کا احساس پیدا ہورہا ہے۔ ڈپریشن، مایوسی، ناامیدی، جنجھلاہٹ، چڑچڑا پن پیدا ہو رہا ہے اور جو لوگ پہلے سے مریض ہیں ان کا علاج سست روی کا شکار ہوا ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ دو برس پہلے زلزلے کے جو مناظر دکھائے گئےتھے۔ اس کے اثرات آج تک عام لوگوں میں پائے جاتے ہیں اور لال مسجد آپریشن کے دوران دکھائے جانے خوں ریز مناظر کے بھی اثرات دیرپاہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا بالکل نا آموز ہے اور کیا کوریج میں کوئی خامی رہ گئی۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے میں اس تربیت اہتمام ہی نہیں کیا گیا کہ ایسے مواقع پر کیا کرنا چاہیے۔ الیکٹرانک میڈیا کی تعلیم دینے والے ایک استاد پروفیسر تیمور نے کہا کہ ایک دوسرے پر بازی لےجانے کی دھن میں معلومات کو تصدیق کے بغیر نشر کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عبدالرشید غازی نے جو کہا وہ اسی طرح نشر ہوگیا اور وہ معاشرہ جو چند روز پہلے تک لال مسجد آپریشن کے حق میں تھا، بتدریج اس کے خلاف ہوگیا اور عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھی ہیرو بنتے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ عام لوگ ذہنی طور پر انتشار کا شکار ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر ذوالفقار علی کا خیال اس کے برعکس ہے وہ کہتے ہیں کہ رپورٹنگ پر حکومت کا اثر بہت زیادہ ہے اور صرف وہ معلومات آ رہی ہیں جو حکومت میڈیا کو فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا خود تذبذب کا شکار ہے، ایک طرف ہلاک ہونے والے فوجی کو شہید کہا جاتا ہے تو دوسری طرف اسلام اور شریعت کے نفاذ کی خاطر ہلاک ہونے والوں کو کیا کہاجائے؟ یہ سوال میڈیا کے منتظیمین کے لیے پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینل جب فوجی کو شہید کہتے ہیں تو دوسری جانب مدرسے کے ہلاک شدگان کے بارے میں انہیں مناسب لفظ نہیں ملتا اور ایک ٹی وی چینل تو ان کے بارے میں یہ کہہ کا کام چلاتا رہا کہ ’وہ جو اس دنیا میں نہیں رہے‘۔ ڈیفنس موڑ پر شاپنگ کرنے والے ایک شخص محمد شاہد نے کہا کہ ان کے گھر میں دن رات ٹی وی پر لال مسجد آپریشن چل رہا ہے۔ وہ جہاں جاتے ہیں یہی بات ہورہی ہوتی ہے۔ یہ درست ہوا یا نہیں لیکن بہرحال اس کا ذکر خوشگوار نہیں ہے۔ عمران ملک ایک نجی ادارے میں ملازم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سات روز کی مسلسل کوریج نے بچوں اور خواتین پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ بچوں کے سوالات کے جواب دینا بہت مشکل ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا کسی کو ماردینا ٹھیک ہے؟ کون غلط اور کون صحیح ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان سوالوں کا جواب توان کے پاس بھی نہیں ہے وہ بچوں کو کیا سمجھائیں۔ ایک صحافی قیوم زاہد نے کہا کہ بچوں کی موجودہ نسل یہ مناظر دیکھ کر جوان ہوگی تو اس کا رویہ کیا ہوگا یہ سوچنے کی بات ہے۔ |
اسی بارے میں آپریشن: 58 ہلاک، شدید مزاحمت، ہسپتالوں میں میڈیا پر پابندی10 July, 2007 | پاکستان آپریشن سے پہلے اسلام آباد سیل10 July, 2007 | پاکستان لال مسجد آپریشن: لمحہ بہ لمحہ 10 July, 2007 | پاکستان آپریشن: 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی10 July, 2007 | پاکستان ’ہم آپریشن نہیں رکوا سکتے‘10 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||