BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 04:17 GMT 09:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غازی کی تدفین روجھان میں متوقع
تدفین ممکنہ طور پر مدرسہ عبداللہ بن غازی میں ہوگی
اطلاعات کے مطابق عبدالرشید غازی اور اُن کے دو ساتھیوں کی لاشوں کو پمز ہسپتال سے سہالہ میں واقع سابق پولیس نیشل اکیڈمی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری محمد علی نے بتایا کہ عبدالرشید غازی اور اُن کے دو ساتھیوں کی لاشیں پمز ہسپتال سے پوسٹ مارٹم کے بعد تابوت میں بند کر کے سہالہ میں واقع سابق پولیس نیشل اکیڈمی کی عمارت میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ ان سے جب عبدالرشید غازی کے ساتھ دوسری دو لاشوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔


اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ انتظامیہ عبدالرشید غازی کے ورثاء کی جانب سے لاش کی حوالگی کی درخواست کی منتظر ہے۔

روجھان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق منگل کو لال مسجد آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی اور ان کے تین ساتھیوں کی میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی گاؤں لائی جائیں گی۔

روجھان سے مقامی صحافی جمشید بلوچ نے عبدالرشید غازی کے عزیز غلام یٰسین کے حوالے سے بتایا کہ انہیں مقامی انتظامیہ نے منگل کی رات اس بارے میں مطلع کیا تھا۔

غلام یٰسین کا کہنا تھا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کی میتیں بدھ کو بذریعہ ہیلی کاپٹر روجھان لائی جائیں گی تاہم انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ مولانا غازی کے علاوہ دیگر میتیں کن افراد کی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ممکنہ طور پر عبدالرشید غازی کی تدفین روجھان سے اکیس کلومیٹر دور واقع مدرسہ عبداللہ بن غازی میں کی جائے گی۔ یہ مدرسہ ان کے والد مولانا عبداللہ کے نام پرقائم کیا گیا ہے۔

تدفین کے انتظامات کے حوالے سے صحافی جمشید بلوچ کا کہنا ہے کہ روجھان میں عبدالرشید غازی کی تدفین کی خبر کے ساتھ ہی علاقے میں رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جس نے تمام علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ میڈیا کو علاقے سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور تدفین میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کی تلاشی کا عمل بھی جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد