’ آپریشن، نادیدہ قوت کی سازش‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے مولانا عبدالرشید غازی کی ہلاکت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نادیدہ قوت کی ایک سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے پورے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے لال مسجد آپریشن کو قتلِ عام اور ایک سانحہ قرار دیا اور کہا کہ پوری فوج کو ضمیر کا مجرم بنا دیا گیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ متعدد گواہیاں آ گئی ہیں کہ ’مذاکرات ایوان صدر نے ناکام بنائے اور مسجد اور خواتین کا تقدس خاک میں ملا دیا گیا‘۔انہوں نے الزام لگایا کہ مذاکرات کے عین دوران حکومتی مذاکراتی ٹیم کی موجودگی میں حملے کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد میں قتل عام کر کے قوم اور فوج کے درمیان ایک خونی لکیر کھینچ دی گئی ہے اور جنرل مشرف کی سربراہی نے پوری قوم کو فوج کے روبرو لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ جب مذاکرات کامیاب ہوچکے تھے عین اس وقت نادیدہ قوت نےاپنا کام دکھایا اور نتیجے کے طور پر اسلام آباد کو خون میں نہلا دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف پاکستان میں امریکی رٹ قائم کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اسے خوش کرنے کے لیے ملک کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے۔انہوں نے صدر مشرف کو مشورہ دیا کہ وہ امریکی رٹ قائم کرنےکی بجائے اللہ کی رٹ قائم کرنے کی کوشش کریں۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ لال مسجد کے واقعہ کے بعد ملک کے انتشار میں اضافہ ہوگا۔
جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید نے کہا کہ مسلم لیگ( ق) کے سربراہ شجاعت حسین، علماء کمیٹی اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک سازش کےتحت سبوتاژ کر کے پورے اسلام آباد کو خاک و خوں میں نہلا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔ ریٹائرڈ لیفٹنٹ جنرل راحت لطیف نے کہا کہ جذباتیت کی ابتداء لال مسجد والوں نے کی اور انتہا حکومت نے کر دی۔انہوں نے کہا کہ حکومت چند لوگوں کو معافی دیکر اس خوں خرابے سے بچ سکتی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ہندوستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے تین سو مسافروں کی جان بچانے کے لیے مولانا مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دیا تھا حالانکہ وہ لوگ ہندوستان کی نظر میں بہت بڑے مجرم تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں پاکستان نے اپنے لوگوں کی جانیں چانے کے لیے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو معاف کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ادھر منگل کی دوپہر لال مسجد آپریشن کے خلاف ملتان میں دینی مدارس کےطلبہ نےدو الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے، نعرے بازی کی اور ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کی۔ اطلاعات کے مطابق چونگی چودہ کے نزدیک مظاہرین نے ایک ایسی سرکاری فوجی گاڑی پر حملہ بھی کیا جس میں کسی فوج اہلکار کے اہل خانہ سوار تھے تاہم کسی جانی یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ مظاہرے عبدالرشید غازی کی موت کی اطلاع ملنے سے پہلے ہوئے تھے تاہم اس وقت تک مدرسے کے درجنوں لوگوں کی ہلاکت کی خبریں نشر ہوچکی تھیں۔ | اسی بارے میں آپریشن جاری، لاشوں کے لیے سو سے زائد کفن 10 July, 2007 | پاکستان عبدالرشیدغازی ہلاک، آپریشن جاری10 July, 2007 | پاکستان ’فائرنگ کی آواز دل پر لگتی ہے‘ 10 July, 2007 | پاکستان ’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘10 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||