BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 July, 2007, 14:24 GMT 19:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردی میں شدت کاخدشہ تھا‘
جنرل مشرف نے قبائلی علاقوں میں مزید فوج تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے گزشتہ دو دنوں میں فوج اور سکیورٹی فورسز پر کئے جانے والے حملوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ حملے ہو سکتا ہے لال مسجد آپریشن کا رد عمل ہوں۔‘

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے وحید ارشدنے کہا کہ اس طرح کے حملے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گزشتہ دودنوں میں ان حملوں میں شدت آ گئی ہے۔

ان واقعات کے لال مسجد آپریشن کا رد عمل ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لال مسجد کے لوگوں کا مالاکنڈ اور ان علاقوں میں موجود عناصر سے تعلق تھا اور اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ لال مسجد کے آپریشن کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں شدت آئے گی۔

سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان کےواقعات کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات میں مٹہ کے مقام پر ایک فوجی قافلے پر صبح ساڑھے سات بجے کے قریب دو خود کش حملے اور ایک بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں کل تیرہ افراد ہلاک ہوئے جن میں گیارہ فوجی اور دو شہری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں باون زخمی ہیں جن میں انتالیس فوجی اور تین ایف سی کے جوان شامل ہیں۔

ڈی آئی خان میں ہونے والے واقعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ حملہ پولیس کے ایک بھرتی مرکز پر ہوا اور اس میں چودہ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ امن معاہدے کی تنسیخ کے اعلان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے طالبان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ قبائلی رہنماؤں کے ساتھ ہوا تھا اور انہوں نے اس معاہدے کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان ایک مقامی گروہ نے کیا ہے۔ وحید ارشد نے کہا کہ پاک فوج ان گروپوں کے خلاف پہلے بھی کارروائیاں کرتی رہی ہے اور اب بھی یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دریں اثناء اتوار کو صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر انتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں فوجی، سکیورٹی فورسز کے اہلکار اور شہری بھی شامل ہیں۔

ان واقعات کے بارے میں حکومت کی طرف سے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
خودکش حملہ: 24 فوجی ہلاک
14 July, 2007 | پاکستان
سوات: فوجیوں سمیت14 ہلاک
15 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد