BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 July, 2007, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان امن معاہدہ ختم

وزیرستان طالبان(فائل فوٹو)
’حکومت آپریشن کر کے اس معاہدے کو پہلے ہی توڑ چکی ہے‘
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نےگزشتہ برس حکومت کے ساتھ کیا جانے والا امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے علاقے میں گوریلا کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجـوؤں کو فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گوریلا کارروائیاں شروع کرنے کا حکم ان کے مقامی کمانڈر حافظ گل بہادر کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔

عبداللہ فرہاد نے کہا کہ یہ قدم بنیادی طور پر تین وجوہات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوجی آپریشن کے دوران متاثرہ افراد کو معاوضے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ علاقے میں قائم تمام فوجی چوکیوں کو بھی ہٹانے کے اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

عبداللہ فرہاد نے کہا کہ حکومت رزمک اور دتہ خیل میں زمینی اور فضائی آپریشن کرکے اس معاہدے کو پہلے ہی توڑ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں قائم فوجی چوکیوں پر مقامی لوگوں کی زبردست تلاشی لی جا رہی ہے اور ان کے کپڑے تک اتروائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں کو علاقے میں گوریلا جنگ شروع کرنے کے حکم کے ساتھ ہی حافظ گل بہادر نے طالبان کو یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ وہ شہری اور دیہی علاقوں میں کارروائیاں نہ کریں کیونکہ ان علاقوں میں عام آدمیوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

’علاقے میں قائم فوجی چوکیوں پر مقامی لوگوں کی زبردست تلاشی لی جا رہی ہے‘

انہوں نے کہا کہ قبائلی ملک اور مشران کو بھی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور انہیں حکومت کی طرف سے بلائے جانے والےجرگوں میں شامل نہیں ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔

طالبان نے خاصہ داروں اور لیویز کے اہلکاروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ سوموار سے اپنی ڈیوٹیوں پر نہ جائیں ورنہ انہیں بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں موجود واپڈا اور محکمہ صحت کے اہلکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

مقامی طالبان نے عبدالحئی عزیز کو اپنا نیا ترجمان نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت پاکستان اور مقامی طالبان کے درمیان ستمبر دو ہزار چھ میں امن معاہدہ ھے پایا تھا جس کے تحت تمام غیر ملکی شددت پسندوں کو علاقے سے نکالنے جبکہ طالبان اور القاعدہ عناصر کے افغاسنتان آنے جانے پر پابندی پر اتفاق ہوا تھا۔

حکومت نے اس یقین دھانی کے جواب میں زمینی اور فضائی فوجی آپریشن بند کرنے، قبائلیوں کی مراعات بحال کرنے اور آپریسن کے دوران قبضے میں لیا گیا سامان واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس معادے کی ایک اہم شق ٹارگٹ کلنگ پر پابندی بھی تھی جس کا اس معاہدے میں خصوصی طور پر ذکر کیا گیا تھا۔

لال مسجد کے اندر کا منظرلال مسجد کئی سوال
شدت پسند کہاں تھے اور کہاں چلے گئے
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
طالبان(فائل فوٹو)وزیرستان میں امن
طالبان کا امن معاہدہ جاری رکھنے کا فیصلہ
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
وزیرستان امن معاہدہ
فریقین معاہدے پرعمل کریں گے: رکن جرگہ
اسی بارے میں
باجوڑ: منگل کو یوم احتجاج
30 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد