شمالی وزیرستان امن معاہدہ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے مقامی طالبان نےگزشتہ برس حکومت کے ساتھ کیا جانے والا امن معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے علاقے میں گوریلا کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجـوؤں کو فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گوریلا کارروائیاں شروع کرنے کا حکم ان کے مقامی کمانڈر حافظ گل بہادر کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ عبداللہ فرہاد نے کہا کہ یہ قدم بنیادی طور پر تین وجوہات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فوجی آپریشن کے دوران متاثرہ افراد کو معاوضے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا جو کہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ علاقے میں قائم تمام فوجی چوکیوں کو بھی ہٹانے کے اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ عبداللہ فرہاد نے کہا کہ حکومت رزمک اور دتہ خیل میں زمینی اور فضائی آپریشن کرکے اس معاہدے کو پہلے ہی توڑ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں قائم فوجی چوکیوں پر مقامی لوگوں کی زبردست تلاشی لی جا رہی ہے اور ان کے کپڑے تک اتروائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں کو علاقے میں گوریلا جنگ شروع کرنے کے حکم کے ساتھ ہی حافظ گل بہادر نے طالبان کو یہ ہدایت بھی جاری کی ہے کہ وہ شہری اور دیہی علاقوں میں کارروائیاں نہ کریں کیونکہ ان علاقوں میں عام آدمیوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی ملک اور مشران کو بھی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور انہیں حکومت کی طرف سے بلائے جانے والےجرگوں میں شامل نہیں ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ طالبان نے خاصہ داروں اور لیویز کے اہلکاروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ سوموار سے اپنی ڈیوٹیوں پر نہ جائیں ورنہ انہیں بھی حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں موجود واپڈا اور محکمہ صحت کے اہلکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ مقامی طالبان نے عبدالحئی عزیز کو اپنا نیا ترجمان نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں حکومت پاکستان اور مقامی طالبان کے درمیان ستمبر دو ہزار چھ میں امن معاہدہ ھے پایا تھا جس کے تحت تمام غیر ملکی شددت پسندوں کو علاقے سے نکالنے جبکہ طالبان اور القاعدہ عناصر کے افغاسنتان آنے جانے پر پابندی پر اتفاق ہوا تھا۔ حکومت نے اس یقین دھانی کے جواب میں زمینی اور فضائی فوجی آپریشن بند کرنے، قبائلیوں کی مراعات بحال کرنے اور آپریسن کے دوران قبضے میں لیا گیا سامان واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس معادے کی ایک اہم شق ٹارگٹ کلنگ پر پابندی بھی تھی جس کا اس معاہدے میں خصوصی طور پر ذکر کیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں وزیرستان: متعدد شدت پسند ہلاک16 January, 2007 | پاکستان وزیرستان امن معاہدہ،جائزہ کاحکم23 December, 2006 | پاکستان وزیرستان امن معاہدہ خطرے میں01 November, 2006 | پاکستان ’پاکستان ظلم کرے گا تو معاہدہ ختم‘31 October, 2006 | پاکستان باجوڑ: منگل کو یوم احتجاج30 October, 2006 | پاکستان ’بُش کو وزیرستان معاہدہ پر اعتماد‘28 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||