BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 July, 2007, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج اپنی غلطیوں کی معافی مانگے‘
اسد درانی نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام قانون کے دائرے میں نہیں ہو سکتا
پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل (ر) اسد درانی نے فوج پر ہونے والے حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور فوج ہم جہاں بھی گئے ہیں اپنے پیچھے خون کے نشان اور لاشوں کا انبار چھوڑا ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے اسد درانی نے کہا کہ اگر فوج کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ اگر پچھلے چار پانچ سالوں پر نظر ڈالیں تو ہم نے مختلف علاقوں میں کئی فوجی آپریشن کیے ہیں۔

’ یہ کارروائیاں چاہے بلوچستان میں ہوں یا قبائلی علاقے میں یا پھر اسلام آباد میں، اپنے ہی لوگوں کے خلاف کی گئیں۔اور ان آپریشنز میں ہم نے کافی لوگوں کو مارا۔‘

ریٹائرڈ جنرل کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں تو آپریشن ضروری تھا لیکن کچھ معاملات میں تو شاید بغیر کارروائی کے گزارہ ہو بھی جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی صورتِ حال کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بطور حکومت یا فوج ملک میں ہم جہاں بھی جاتے ہیں پیچھےخون کے نشان اور لاشیں چھوڑ آتے ہیں۔

سارے نظام کو بطور صدر کنٹرول کرنا بنیادی ایشو ہے: اسد درانی

ان کا کہنا تھا کہ یہ بت باعث پریشانی ہے کہ ہر آپریشن کے بعد کہا جاتا ہے کہ ہم نے فتح حاصل کی ہے اور فوجیوں کو مبارکباد دی جاتی ہے۔’ اب تو وہ بے چارے سپاہی جو حکم کے تحت کارروائی کرتے ہیں انہوں نے بھی فتح کے نشان بنانا شروع کر دیے ہیں۔ ان باتوں کو مد نظر رکھیں تو یہ بات سمجھ آ جاتی ہے کہ لوگ فوج کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا فوج میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو اس طرح کی سوچ رکھتے ہوں انہوں نے کہا کہ ’میں نے کوئی سروے نہیں کیا ہے۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ہم فوج کے اندر ہوں یا باہر عام طور پر ہماری سوچ ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہے، کچھ اگر اس کے حق میں ہوں گے تو کچھ کو اختلاف بھی ہوگا۔ کچھ لوگوں کے خیال میں بنیاد پرستی یا ملا ازم بہت بڑا جرم ہے جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس مسئلے کو طریقہ سے حل کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے کوئی خوش نہیں ہوسکتا جہاں لوگوں کا خون بہایا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ عام شہریوں کا خون بہانا ہر معاشرے میں برا سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں گزشتہ چند برسوں میں ہم شہریوں کا ہی خون بہا رہے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کےخیال میں اس طرح کی بے چینی موجود ہے تو کیا وہ اتنی شدید ہو سکتی ہے کہ اس کے بارے میں اقدامات کرنے پر غور کیا جائے تو اسد درانی کا کہنا تھا کہ فوج کے اندر ایک خاص قسم کا ’چین آف کمانڈ‘ کلچر موجود ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکم کی تعمیل فوج کے ڈسپلن کا حصہ ہے۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اتحادی ہونے کے باوجود ہم اپنی اندرونی (پالیسیوں) کا دفاع کر سکتے تھے لیکن ہم نے قبائلی علاقوں میں کارروائی شروع کر دی۔ اس کارروائی کے جواب میں مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں نے بہت کامیاب مزاحمت کی اور ہمیں شدید نقصان پہنچایا

جنرل اسد درانی کا کہنا تھا کہ ’جب آپ کسی بیرونی طاقت کی ایماء پر اپنے لوگوں پر حملے کرتے ہیں تو اس کا اثر بالکل مختلف ہوتا ہے۔‘ ان کے بقول جو لوگ قبائلی علاقوں کو سمجھتے تھے انہوں نے کہا تھا کہ وہاں کارروائی نہ کریں کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اتحادی ہونے کے باوجود ہم اپنی اندرونی (پالیسیوں) کا دفاع کر سکتے تھے لیکن ہم نے قبائلی علاقوں میں کارروائی شروع کر دی۔ اس کارروائی کے جواب میں مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں نے بہت کامیاب مزاحمت کی اور ہمیں شدید نقصان
پہنچایا۔

خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے مقامی لوگوں کے ساتھ کیے ہوئے امن معاہدے کا احترام نہیں کیا۔ ’اگر ہم اپنے ہی کیے ہوئے معاہدے کا احترام نہیں کرتے تو پھر معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ (ایسی بے چینی کی صورتحال میں) وہ پاکستان کے حکمرانوں کو کیا مشورہ دیتے ہیں تو جنرل درانی نے کہا کہ وہ مشورہ نہیں دیا کرتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر فوجی ایکشن غلط ہے تو نہ کیجیے۔ لوگوں کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے چاہے یہ عمل کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو۔ فوج ایکشن سے پرہیز کرے اور جو غلطیاں ہوئی ہیں (فوج ) اس کی معافی مانگے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا حالات کی بہتری کے لیے سیاسی اقدامات بھی ضروری ہیں اسد درانی نے کہا کہ یہ ایک بنیادی بات ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا (صدر مشرف) کا وردی اتارنا اس سلسے میں پہلا قدم ہو سکتا ہے تو اسد درانی نے کہا کہ وردی کے ساتھ صدر رہنا ایک غیر قدرتی فعل ہے۔ ان کے بقول اس قسم کے نظام میں ہر بات ذاتی ہو جاتی ہے کیونکہ ایسے نظام میں ہر بات ایک ذات سے شروع ہوتی ہے۔ ’ سارے نظام کو بطور صدر کنٹرول کرنا بنیادی ایشو ہے۔‘

لال مسجد آپریشنلوگ پہلے سوچیں گے
مسجد آپریشن : سرمایہ کاری پر سوالیہ نشان
عاصمہ جہانگیر’لال مسجد آپریشن‘
تاخیری حربوں، ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
محمود اچکزئی’حقِ حکمرانی‘
فوج اور جاسوسی اداروں کا کوئی کام نہیں: اچکزئی
 شکار پور کے ہندو فائل فوٹوفوجی آپریشن: 2
بلوچوں پر کیا بیتی، وسعت اللہ خان
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
ش’فوج کےخلاف بات‘
’فوج کو ناپاک کہنے والےگولی کے حقدار ہیں‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد