BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 11:21 GMT 16:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج کوناپاک کہنے والےگولی کےحقدار‘

چودھری شجاعت
صدر کے خلاف بات کی جا سکتی ہے لیکن فوج کے خلاف بات نہ کریں‘۔
حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج کو ناپاک فوج کہنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے۔

یہ بات انہوں نے ایوان میں اس وقت کہی جب حزب اختلاف کی رکن ناہید خان نے ان کی موجودگی میں ان سےگولی مارنے اور اسلام آباد میں ایک سرکاری لائبریری مدرسے کی طالبات کے حوالے کرنے کے بارے میں ان کے بیانات کی وضاحت چاہی۔

اس پر چودھری شجاعت نے کہا ’میں نے بالکل کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ پاک فوج کو ناپاک فوج کہنے والوں کو گولی مارنی چاہیے۔ میں جب امریکہ میں تھا اور ٹی وی پر ایک شخص کو ناپاک فوج مردہ باد کا نعرہ لگاتے سنا تو میں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو گولی مارنی چاہیے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’صدر کے خلاف بات کی جاسکتی ہے، میرے خلاف بات کرسکتے ہیں لیکن فوج کے خلاف بات نہ کریں‘۔

چودھری شجاعت حسین نے پاک فوج کو ناپاک فوج کہنے والے کوگولی مارنے کے اپنے بیان کی تو تصدیق کی لیکن لائبریری پر جامعہ حفصہ کی طالبات کے قبضہ کے بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

 صدر کے خلاف بات کی جا سکتی ہے، میرے خلاف بات کرسکتے ہیں لیکن فوج کے خلاف بات نہ کریں‘۔
چودھری شجاعت

کچھ دیر بعد جب چودھری شجاعت چلے گئے تو ناہید خان نے ایک بار پھر نکتہ اعتراض پر چودھری شجاعت کے فوج کے متعلق بیان کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان سمیت کئی لوگ فوج کے خلاف نعرے لگاتے ہیں اور کسی کو گولی لگی تو ایف آئی آر چودھری شجاعت حسین کے خلاف درج ہوگی۔

اُس پر حکمران جماعت کی ایک خاتون رکن بشریٰ رحمٰن نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ چودھری شجاعت کے خلاف کوئی بات نہ کی جائے وہ بڑے ذہین اور عظیم لیڈر ہیں جس پر اپوزیشن کے کئی اراکین نے نعرے بازی کی۔

مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور دیگر نے کہا کہ فوجی وردی اترنے والی ہے اور اس کی پناہ ختم ہونے والی ہے ۔ لہٰذا ان کے مطابق فوجی وردی میں چھپنے کی کوشش نہ کی جائے۔ سعد رفیق نے کہا کہ ناپاک فوج کا نعرہ لگنے کی وجہ چند جرنیلوں کی وہ پالیسی ہے جس کے تحت ایمان، تقویٰ اور جہاد کے نعرے والی فوج کو کرائے کی فوج بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے سید قربان علی شاہ نے چودھری شجاعت حسین کی غیر موجودگی میں ان کے بیان کی مخالفت کی اور یہ شعر پڑھا۔

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

اسی بارے میں
جاوید ہاشمی اور متنازع خط
30 October, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد