لال مسجد آپریشن، بیرونی سرمایہ کاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی آپریشن کے ذریعے حل ہونے والے لال مسجد تنازعہ نے ملکی و بیرونی سرمایہ کاروں اور اقتصادی ماہرین کے ذہنوں میں اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے کئی خدشات اور سوالوں کو جنم دیا ہے اقتصادی ماہرین کے خیال میں کسی بھی ملک کے لیے پائیدار دار امن کے بغیر معاشی ترقی کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔ حکومتِ پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے مالی سال ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار سات فیصد رہی جس کا حصول چھ ارب ڈالر سے زائد کی گئی بیرونی سرمایہ کاری کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ لیکن کاروباری حلقوں کا یہ خیال ہے کہ چونکہ پاکستان اقتصادی طور پر ایک کمزور ملک ہے لہذا وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کو بہتر اور پاکستان میں رہنے والے غیر ملکیوں کو تحفظ دیے بغیر اقتصادی ترقی کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنا ممکن نہ ہوگا اسلام آباد میں چھ ماہ سے جاری لال مسجد کے مسئلے کا حل آٹھ روز کے فوجی آپریشن سے ممکن ہو سکا اس دوران صوبہ سرحد میں لال مسجد سے جڑے تشدد کے مختلف واقعات میں انیس افراد ہلاک ہوۓ جن میں تین چینی باشندے بھی شامل تھے اسلام آباد چیمبر آف کامرس و انڈسٹری کے صدر ناصر خان کاکہنا ہے کہ تشدد کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور غیر ملکیوں پر حملوں کا ملکی اقتصادی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری پرمنفی اثر پڑ سکتا ہے۔ گو کہ گذشتہ چند سالوں میں اقتصادی ترقی کے حصول اور ملک میں معاشی ترقی کے لیے ساز گار ماحول کی موجودگی کے بارے میں کیے جانے والے حکومتی دعوؤں کی سچائی کے حساب سے کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین میں اتفاق پایا جاتا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت کے لیے ترقی کی رفتار کو جاری رکھنا ایک مشکل عمل ثابت ہوسکتا ہے۔ ناصر خان کا کہنا ہے کہ لال مسجد پر فوجی آپریشن سے پہلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتِحال ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ بلیو ایریا اسلام آباد میں تیس لاکھ مربع فٹ پر چالیس ارب روپے مالیت کے ایک رہائشی منصوبہ کو شروع کرنے والی پاک گلف پرائیویٹ کنسٹرکشن کمپنی کے صدر سردار تنویرلال مسجد کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے بارے میں کچھ زیادہ مطمئن نظر نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کولال مسجد تنازعہ کو بہت پہلے حل کرنا چاہیے تھا حکومت کو بہت پہلے اپنےاختیارات کا استعمال کرنا چاہئے تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے کہ پچھلے دس بارہ دنوں سے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اسلام آباد میں اپنے دفاتر بند کر رکھے تھے ، پاکستان میں رہنے والے غیرملکیوں نے اپنے خاندان کے دوسرے افراد کو اپنے ممالک واپس بھجوا دیا ہے جبکہ سفارتکار تک گھروں سے باہر نہیں نکلتے۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ تشدد کی وارداتیں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی اقتصادی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کر سکتی ہیں اس بارے میں کراچی میں مقیم معاشی و اقتصادی امور کے ماہر اکبر زیدی کا خیال ہے کہ سرمایہ کاروں اور اقتصادی ماہرین کی جانب ظاہر کیے گۓ خدشات کے بارے میں حکومتی موقف جا ننے کے لیے وفاقی وزیرِ مملکت براۓ خزانہ عمر ایوب اور وزیرِ اعظم کےمشیر براۓ خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ تک رسائی، اُن کی سرکاری مصروفیات کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکی۔ | اسی بارے میں ’شدت پسندی ترقی کی راہ میں رکاوٹ‘ 24 November, 2006 | پاکستان ’اقتصادی ترقی کو کوئی خطرہ نہیں‘10 June, 2007 | پاکستان ’مسلمان اعتدال پسندی اپنائیں‘06 November, 2006 | پاکستان ’دہشت گردی سےنمٹا جائےگا‘18 January, 2007 | پاکستان شرح نمومیں اضافے سےمہنگائی 18 April, 2007 | پاکستان ’اسلامی دنیا کو تنزلی سے بچناہوگا‘15 May, 2007 | پاکستان مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے08 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||