BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 November, 2006, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلمان اعتدال پسندی اپنائیں‘

صدر جنرل پرویز مشرف
صدر مشرف نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی کا عنصر ’ان پڑھ دینی علماء‘ کی وجہ سے شامل ہوا
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ اقوامِ عالم کے سامنے اسلام کا بہتر امیج پیش کرنے کے لیئے مسلم امہ کو اعتدال پسندی اور روشن خیالی کو اپنانا ہوگا۔

اسلام آباد میں دوسرے عالمی اسلامی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلم امہ کو دہشتگردی سے زیادہ انتہا پسندی سے خطرہ ہے اور دنیا کو یہ حقیقت بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام انتہا پسندی کو فروغ نہیں دیتا۔

صدر مشرف نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی کا عنصر ’ان پڑھ دینی علماء‘ کی وجہ سے شامل ہوا جو عوام کو غلط دینی تعلیمات دے کرگمراہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم امہ کو چاہیئے کہ وہ معتدل اسلام کے نظریے کے تحت دنیا کو دین کی صحیح تعلیمات سے روشناس کروائے۔

انہوں نے کہا: ’انتہاپسند مغرب کی اس غلط فہمی کو تقویت بخش رہے ہیں کہ اسلام ایک انتہا پسند مذہب ہے اس لیے انتہا پسندی کو طاقت سمیت ہر طریقے سے رد کرنے کی ضرورت ہے اور اسلامی کانفرنس تنظیم اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔‘

صدر مشرف کا کہنا تھا کہ’ہمیں بین الاقوامی مسائل کا مشترکہ طور پر حل تلاش کرنا چاہیے۔ یہ اس سلسلے میں بہترین وقت ہے اور اگر اب بھی حل تلاش نہ کیا گیا تو دنیا انتشار کا شکار ہو جائے گی‘۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی یونین پر بھی زور دیا کہ وہ اقوامِ عالم پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کشمیر، عراق اور فلسطین جیسے مسائل حل کروائیں۔

پاکستانی صدر نے اپنے خطاب میں اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی کے لیےگورننس کو بہتر بنائیں اور اس کے لیئے ضروری ہے کہ عوام کو سیاسی طور پر مضبوط کیا جائے اور خصوصاً خواتین کو اقتصادی اور تعلیمی میدانوں میں آگے لایا جائے۔ مسلم ممالک کی معیشت پر بات کرتے ہوئے جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ معیشت کی کارگردگی بہتر بنانے کے لیئے’لبرلائزیشن اور ڈی ریگولیشن‘ کی ضرورت ہے کیونکہ ایک مضبوط معیشت ہی کسی ملک کی ضامن ہوتی ہے۔

صدر مشرف نے مسلم امہ کی آواز اور نقطۂ نظر کو مؤثر طریقے سے دنیا بھر میں پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ تاحال اسلامی دنیا میں عالمی معیار کا میڈیا موجود نہیں ہے اور اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ایسے میڈیا کا قیام عمل میں لایا جائے جو اسلام کے منفی امیج کو ختم کر سکے۔

دوسرا عالمی اسلامی اقتصادی فورم پانچ نومبر سے سات نومبر تک جاری رہے گا اور اس فورم میں مسلم ممالک کو درپیش مسائل، اقتصادیات، غربت، تعلیم، انفرا سٹرکچر کی تیاری اور خواتین کے حقوق جیسے موضوعات زیرِ بحث لائے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد