سرحد حکومت کے کھاتے بلا سود نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت عوامی سطح پر تو اسلامی بینکاری کو فروغ دینے میں زور و شور سے مصروف ہے تاہم خود اپنے سرکاری کھاتے بلاسود بینکاری میں اب تک تبدیل نہیں کر سکی ہے۔ اس بات کا اعتراف صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے آج پشاور میں صوبائی حکومت کے زیر انتظام چلائے جانے والے بینک آف خیبر کی ایک تقریب میں کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے مالی امور کو اسلامی بینکاری کے تحت چلانے کے لیئے چند قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام صوبائی وزراء نے اسلامی بینکاری کے تحت کھاتے کھول رکھے ہیں تاہم سرکاری سطح پر بھی اس کی کوششیں جاری ہیں۔ اس موقعہ پر بینک آف خیبر کے سربراہ قاضی منیر الحق نے کہا کہ سرکاری کھاتوں میں پہلے سے شرح منافع دیئے جانے کی قانونی شرط ہے جوکہ اسلامی بینکاری میں ممکن نہیں۔ ایم ایم اے حکومت نے دسمبر دو ہزار دو میں بینک آف خیبر کو اسلامی بینک میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں اسے بنک دولت پاکستان سے اجازت ستمبر دو ہزار تین میں ملی تھی جس کے بعد بینک نے باقاعدہ اسلامی بینکاری کا آغاز اسی سال نومبر میں کیا۔ اس سلسلے میں جولائی دو ہزار چار میں بینک آف خیبر ایکٹ میں ترمیم بھی منظور کرائی گئی تھی۔ لیکن اس وقت اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ سرکاری کھاتے بھی بلاسود بینکاری کے اصولوں کے تحت چلانے چاہیئں۔ بینک اب تک کوئٹہ سمیت پانچ شہروں میں اپنی شاخوں میں اسلامی بینکاری متعارف کروا چکا ہے۔ تاہم چند قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اسے سٹیٹ بینک کی جانب سے مزید شاخوں میں اسلامی بینکاری شروع کرنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ تاہم بینک انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ پیچیدگی جلد دور کر لی جائے گی۔ پاکستان میں پانچ دیگر بینک پہلے ہی مکمل طور پر اسلامی ہدایات کی روشنی میں چلائے جا رہے ہیں جبکہ کئی روایتی بینک بھی جن میں بینک آف خیبر بھی شامل ہے محدود انداز میں یہ بینکاری کر رہے ہیں۔ صحافیوں کو گزشتہ برس کی اسلامی بینکاری میں کی جانے والی پیش رفت کے باری میں بینک آف خیبر کے مینجنگ ڈائریکٹر قاضی منیر الحق کا کہنا تھا کہ ہر زاویے سے اس میں پیش رفت ہوئی ہے جوکہ ان کے لیئے حوصلہ افزا بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد میں مذہبی سوچ زیادہ رکھنے کی وجہ سے انہیں کافی مثبت رد عمل مل رہا ہے۔ صوبہ سرحد میں اکتوبر سن دو ہزار دو کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے عوام سے سودی کاروبار کے خاتمے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ لیکن ساڑھے تین برس گزر جانے کے باوجود اس مشکل ہدف کے حصول میں ناقدین کے خیال میں پیش رفت کافی سُست رہی ہے۔ | اسی بارے میں سرحد میں خسارے کا بجٹ 19 June, 2005 | پاکستان اگلے برس سے فون بینکنگ شروع 21 May, 2005 | پاکستان فوج کے 55 کاروباری ادارے26 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||